ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن، معیار کی بہتری اور عالمی مارکیٹ میں مسابقت کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے: جمال بھٹہ، خالد مغل

وزیرآباد(جانوڈاٹ پی کے) چیئرمین پاکستان کٹلری ایسوسی ایشن وزیرآباد محمد جمال بھٹہ اور چیئرمین پاک کٹلری کنسورشیم وزیرآباد محمد خالد مغل نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں منعقدہ ایکسپورٹرز ایوارڈز کی تقریب کے دوران وزیرِ اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی جانب سے مائیکرو سمال اور میڈیم انٹرپرائزز کے کردار پر دیا گیا بیان ملکی صنعتی ترقی کے لیے بروقت حقیقت پسندانہ اور دور اندیش ہے انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے وزارتِ خزانہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کمرشل بینکوں سمیڈا وزارتِ تجارت اور وزارتِ صنعت و پیداوار کو مخاطب کرتے ہں وئے درست نشاندہی کی کہ اگر پاکستان کو برآمدات میں اضافہ میڈ اِن پاکستان برینڈ کو مضبوط بنانے زرِ مبادلہ کمانے اور صنعتی پیداوار بڑھانے کا ہدف حاصل کرنا ہے تو مائیکرو اور سمال انٹرپرائزز کو مؤثر سپورٹ فراہم کرنا ناگزیر ہے محمد خالد مغل اور محمد جمال بھٹہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم کا یہ اعتراف انتہائی اہم ہے کہ روزگار ویلیو ایڈیشن اور برآمدات میں کلیدی کردار ادا کرنے کے باوجود مائیکرو اور سمال انٹرپرائزز آج بھی رسک پر مبنی محتاط بینکنگ رویّوں کے باعث سستی آسان اور بروقت فنانسنگ سے محروم ہیں جو روایتی صنعتی کلسٹرز کی ترقی میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے انہوں نے بتایا کہ وزیرآباد کٹلری کلسٹر گزشتہ دو دہائیوں سے سمیڈا پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ مل کر پیداواری صلاحیت بڑھانے ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن معیار کی بہتری اور عالمی ایکسپورٹ ویلیو چینز سے جڑنے کے لیے کوشاں ہں ے تاہم تاحال سٹیٹ بینک کی 6 فیصد رننگ فنانسنگ فسیلیٹی میں شامل نہ ہں و سکنے کے باعث پیداواری توسیع اور عالمی مسابقت متاثر ہو رہی ہے دونوں نے مل کر مطالبہ کیا کہ وزیرِ اعظم کے وژن کی روشنی میں وزیرآباد کٹلری کلسٹر کو فوری طور پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رننگ فنانسنگ فسیلیٹی برائے ایس ایم ای میں شامل کیا جائے اور آسان ایس ایم ای فنانسنگ اسکیم کی حد منظم صنعتی کلسٹرز کے لیے پانچ کروڑ روپے تک بڑھائی جائے تاکہ خام مال کی امپورٹ ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن بین الاقوامی سرٹیفکیشن برینڈنگ اور ایکسپورٹ مارکیٹنگ ممکن بنائی جا سکے انہوں نے کہا کہ ویتنام ترکی بھارت چین اور تائیوان جیسے ممالک کے صنعتی ماڈلز اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مرکزی بینک کی نگرانی میں کلسٹر بیسڈ فنانسنگ نہ صرف کم رسک ہوتی ہے بلکہ پیداواری صلاحیت اور برآمدات میں نمایاں اضافہ بھی کرتی ہے مائیکرو اور سمال انٹرپرائزز کو ساختی طور پر مضبوط کیے بغیر پاکستان اپنے صنعتی اور برآمدی اہداف حاصل نہیں کر سکتا جس کے لیے رننگ فنانسنگ میں شمولیت ایس ایم ای اسکیم کی توسیع اور کلسٹر بیسڈ بینکنگ پارٹنرشپس ناگزیر ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button