آئی ایم ایف نے پاکستان سے ہنگامی معاشی پلان طلب کر لیا، اصلاحات اور ٹیکس وصولی پر زور

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) آئی ایم ایف نے پاکستان سے موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں ہنگامی معاشی اقدامات پر مبنی جامع پلان طلب کر لیا۔
ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق وزارت خزانہ، وزارت توانائی اور وزارت تجارت مشترکہ طور پر ہنگامی اقدامات سے آئی ایم ایف کا پاکستان سے علاقائی کشیدگی پر پلان تیار کریں گی، آئی ایم ایف نے پائیدار معاشی ترقی کے لیے جاری اصلاحات کو تیز کرنے اور ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر حکام نے آئی ایم ایف کو ٹیکس ہدف حاصل نہ ہونے کی وجوہات سے آگاہ کیا، رواں مالی سال کے لیے نظرثانی شدہ 13 ہزار 979 ارب روپے کا ہدف حاصل کرنا مشکل قرار دیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف وفد کو پیپرا کے 2004 کے قواعد میں مجوزہ ترامیم سے متعلق رپورٹ پر بھی بریفنگ دی گئی، وفد کو پروکیورمنٹ ڈیٹا تک سی سی پی، نیب اور آڈیٹر جنرل کی رسائی سے متعلق اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وفاق اور تین صوبوں میں ای-پیڈ سسٹم کے تحت سرکاری خریداری کو مزید وسعت دی جائے گی اور نظام کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا، رائٹ سائزنگ کمیٹی کے تحت کیے گئے فیصلوں، مالیاتی بچت اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں تبدیلیوں پر بھی مذاکرات ہوئے۔
حکام کے مطابق 2025 کے اختتام تک 54 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کی جا چکی ہیں، جس سے سالانہ 56 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔
ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ آج صوبائی حکام کی بھی ورچوئل میٹنگز شیڈول ہیں۔



