پاکستان’’مرکز‘‘بن گیا،معاشی حب کیلئے کیا کرنا ہوگا؟

کراچی /اسلام آباد(خصوصی رپورٹ/جانو ڈاٹ پی کے)امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ حالیہ جنگ اب اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اسلام آباد میں اس وقت عالمی سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں، جہاں سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کی آمد اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ان کی ملاقات نے امن کی امیدیں روشن کر دی ہیں۔ کل پاکستان کی میزبانی میں ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک اہم بیٹھک ہونے جا رہی ہے، جس میں جنگ بندی کے مختلف آپشنز اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فراہم کردہ 15 نکات پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ محض عارضی جنگ بندی کے بجائے ایک مستقل حل چاہتا ہے، جس میں ان پر لگی پابندیوں کا خاتمہ اور مستقبل میں حملوں سے بچاؤ کی عالمی ضمانتیں شامل ہوں۔
علاقائی صورتحال کے علاوہ، ملکی انفراسٹرکچر پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کراچی کو سکھر اور ملک کے شمالی حصوں سے ملانے والی نیشنل ہائی وے کی ابتر صورتحال اور سندھ میں روڈ نیٹ ورک کی عدم توجہی معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے واقعی معاشی حب بننا ہے، تو پورٹ سٹی کراچی کو جدید موٹرویز کے ذریعے پورے ملک سے جوڑنا ناگزیر ہے، ورنہ محض وسطی پنجاب میں سڑکوں کا جال بچھانے سے ملکی معیشت کو وہ فائدہ نہیں پہنچے گا جس کی توقع کی جا رہی ہے۔




