آپریشن غضب للحق جاری،297 طالبان ہلاک،450زخمی،89 چیک پوسٹیں تباہ18پرپاک فوج کاکنٹرول،متعددہیڈکوارٹرز تباہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)وزارت اطلاعات و نشریات نے آپریشن غضب للحق کی نئی پیشرفت سے آگاہ کیا ہے جس کے مطابق 27 فروری کی رات گیارہ بجے تک افغان طالبان کے 297 کارندے ہلاک ہوگئے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ افغانستان میں 29 مقامات پر فضائی کارروائی کر کے اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں افغان طالبان رجیم کے 297 کارندے ہلاک جبکہ 450 سے زائد کارندے زخمی ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ افغان طالبان کی 89 چیک پوسٹیں تباہ جبکہ 18 چیک پوسٹوں پر پاک فوج نے مکمل کنٹرول حاصل کیا ہوا ہے اور 135 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کردی گئیں ہیں۔
قبل ازیں افغان طالبان کی جانب سے گزشتہ شب شروع کی گئی جارحیت پر افواج پاکستان کیطرف سے بھرپور جواب دینے کا سلسلہ جاری ہے، آپریشن غضب للحق کے تحت پاک فضائیہ نے افغان صوبے لغمان میں کارروائیاں کر کے ہیڈکوارٹرز کو تباہ کیا جبکہ سرحدی علاقوں میں فورسز نے افغان چیک پوسٹوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان کی جانب سے افغانستان کو جواب دینے کا سلسلہ جاری ہے جس میں پاک فضائیہ نے لغمان، ننگرہار میں تازہ کارروائیاں کیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افواج پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا بھرپور اور موثر انداز میں منہ توڑ جواب کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی میں صوبہ لغمان میں اسلحہ ڈپو،اے بی ایف بٹالین ہیڈکوارٹر اور ننگرہار بریگیڈ مکمل طورپر تباہ کردیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال جارحیت کیخلاف پاکستان کی جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ تازہ کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے مہمند سیکٹر کے قریب افغان چیک پوسٹ مکمل طور پر تباہ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک-افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کے خلاف پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی میں پاک فوج افغانستان میں ایمونیشن ڈپو اور پٹرولیم (پی او ایل) کے بڑے ذخائر تباہ کر دیے۔
اس سے قبل سیکیورٹی فورسز نے سرحد اور افغانستان کے اندر داخل ہوکر بھرپور کارروائیاں کیں جبکہ پاک فضائیہ نے قندھار، کابل، ننگرہار میں فضائیہ کارروائیاں کر کے افغان طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔
آپریشن ضرب للحق میں پاک فضائیہ کے دشمن پر وار
گزشہ روز ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان ایئرفورس فضائی حملوں میں کابل میں دو بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ کیے گئے، جبکہ کارروائیوں کے دوران دشمن کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ قندھار میں فضائی حملے کے دوران ایک کور ہیڈ کوارٹر اور ایک بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، جبکہ ایمونیشن ڈیپو اور لاجسٹک بیس بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
افغان صوبے ننگرہار میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے ایک بڑا ایمونیشن ڈپو تباہ کر دیا۔
مزید بتایا گیا تھا کہ پکتیکا میں ہونے والی کارروائی میں ایک کور ہیڈ کوارٹر کو بھی مؤثر فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
اس کے علاوہ پاکستان نے جنوبی وزیرستان کے مقابل افغانستان کے پکتیا کے علاقے میں پانچ افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لہرایا۔
قبضے میں لی جانے والی چیک پوسٹوں میں دو شوال کے مقابل، دو انگور اڈہ کے مقابل اور ایک زرملان کے مقابل میں ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے مؤثر کارروائی کے دوران انگور اڈہ کا افغانی ٹرمینل بھی تباہ کر دیا۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے بھرپور اور طاقتور جواب میں افغان طالبان فورسز کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے پاک افغان سرحد پر خوست میں افغان طالبان کی متعدد اہم پوسٹس کو مکمل تباہ کر دیا، پاکستان کی فیصلہ کن کارروائی کی بعد افغان طالبان فوج نے متعدد بار پوسٹوں پر سفید جھنڈا بھی لہرایا۔
سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان فورسز کو آرٹلری اور کوارڈ کاپٹر کے ذریعے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔
تباہ ہوئی چند چوکیوں کے نام
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی کارروائیوں میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹوں اور کیمپس کو شدید نقصان پہنچا، افغان طالبان کے شپولا کیمپ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، خیبر پوسٹ ، قومی سر کمپلیکس اور خاور پوسٹ کو شدید نقصان پہنچا، اسی طرح بزدل افغان طالبان کے اہلکار ٹوپسر پوسٹ چھوڑ کر فرار ہوگئے جب کہ پاک فوج نے داؤد پوسٹ کو بھی مکمل تباہ کردیا۔



