یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں جرمن ماہر تعلیم ڈاکٹر سینٹا سلر کو خدمات پر خراجِ تحسین

دیپالپور(محمد اسلم بھٹی جانو ڈاٹ پی کے)یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں جرمن آرٹسٹ اور ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سینٹا سلر کی خواتین کو بااختیار بنانے، صنفی امتیاز کے خاتمے اور خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کے فروغ دینے کیلئے خدمات کے اعتراف میں ایک پروقار سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیمینار کا اہتمام ڈائریکٹوریٹ آف ایکسٹرنل لنکیجز اور ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز نے مشترکہ طور پر کیا، جس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین سمیت اوکاڑہ کی سول سوسائٹی کے مختلف نمائندگان نے شرکت کی اور ڈاکٹر سلر کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ڈاکٹر سینٹا سلر اس وقت اپنے شوہر پروفیسر ڈاکٹر نوربرٹ پنٹسچ کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر ہیں۔تقریب میں ویک اینڈ پروگرام سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے ڈاکٹر سلر کی زندگی بھر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستانی خواتین، خصوصاً اوکاڑہ کے ایک چھوٹے گاؤں ٹھٹھہ غلامکا ڈیروکا میں خواتین کو کاروباری مہارتیں سکھا کر انہیں بااختیار بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم معاشرتی اور معاشی ترقی کے لیے بہترین سرمایہ کاری ہے۔ وائس چانسلر نے اعلان کیا کہ جامعہ اوکاڑہ میں زیرِ تعمیر گرلز ہاسٹل کو ڈاکٹر سینٹا سلر کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔
جرمن نشریاتی ادارے کے نمائندے اور ماہرِ تعلیم امجد علی نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر سلر کی جانب سے 1990 کی دہائی میں شروع کیے گئے منصوبے "ٹھٹھہ کیڈونا” کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے نے ہزاروں دیہی خواتین کو بااختیار بنایا اور گاؤں کی سماجی و معاشی صورتحال میں نمایاں تبدیلی لائی۔
ڈاکٹر سینٹا سلر نے اپنے کلیدی خطاب میں ان عوامل پر روشنی ڈالی جنہوں نے انہیں اس منصوبے کے لیے اپنی توانائیاں وقف کرنے کی تحریک دی، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر نوربرٹ پنٹسچ نے ڈاکٹر سلر کے سفرِ حیات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
تقریب سے خطاب کرنے والوں میں اوکاڑہ کے معروف سماجی کارکن اسلم طاہر القادری اور پاکستان کی مختلف زرعی تنظیموں کے نمائندے چوہدری مقصود احمد جٹ بھی شامل تھے۔ تقریب کی نظامت جامعہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر پریس، میڈیا و پبلیکیشنز) شرجیل احمد نے کی۔



