عالمی منڈی میں تہلکہ،تین آئل ٹینکرز پر حملوں نے تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا!

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی اب سمندروں سے نکل کر عالمی معیشت کی شہ رگ پر جا پہنچی ہے، جہاں تین بڑے آئل ٹینکرز پر ہونے والے پراسرار حملوں نے عالمی منڈی میں کھلبلی مچا دی ہے۔ ماہرینِ معیشت اس صورتحال کو "تیل کا خوفناک بحران” قرار دے رہے ہیں، جس نے دنیا بھر میں ایندھن کی سپلائی لائن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
جیسے جیسے جنگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں، بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی جیب پر پڑنا شروع ہو گیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر ان حملوں کا سلسلہ نہ رکا تو دنیا کو ایک ایسے توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا جس کا اثر کئی دہائیوں تک محسوس کیا جائے گا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے یہ صورتحال ایک کڑا امتحان بن چکی ہے، کیونکہ اب نہ صرف انہیں اپنے بحری بیڑے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، بلکہ گرتی ہوئی عالمی معیشت کو بھی بچانا ہے، جو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مسلسل تباہی کی طرف گامزن ہے۔
صحافی و تجزیہ نگار امداد سومرو نے اس بحران کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا اب ایک ایسی معاشی جنگ میں داخل ہو چکی ہے جہاں تیل کا ایک قطرہ بھی "اسلحے” سے کم نہیں ہے۔



