عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا مستقبل چین طے کریگا، امریکی میڈیا

نیویارک(ویب ڈیسک) ایران جنگ کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتوں کا مستقبل اب صرف مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال تک محدود نہیں رہا بلکہ ماہرین کے مطابق اس کا انحصار چین کی پالیسیوں پر بھی بڑھ گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اگرچہ امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور تیل کی ترسیل معمول پر لانے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں، تاہم عالمی منڈی کی سمت کا فیصلہ اب چین کے اقدامات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے دوران روزانہ 1 کروڑ 10 لاکھ بیرل سے زائد تیل کی سپلائی متاثر ہوئی، لیکن اس کے باوجود عالمی منڈی میں قیمتوں میں وہ بڑا اضافہ نہیں دیکھا گیا جس کی پیش گوئی کی جا رہی تھی۔ بعض ماہرین نے تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔
توانائی ماہرین کے مطابق چین نے عالمی منڈی کو بڑے بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین نے تیل کی درآمدات میں کمی، اسٹریٹجک ذخائر کے استعمال اور صاف توانائی کی طرف منتقلی کے ذریعے عالمی قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مدد دی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کے پاس اس وقت ایک ارب بیرل سے زائد تیل کے ذخائر موجود ہیں، جن کا استعمال جاری ہے، جبکہ برآمدی پالیسیوں میں تبدیلی اور الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے رجحان نے بھی تیل کی طلب کم کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جاتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں اضافی سپلائی آ سکتی ہے، جس سے قیمتوں پر دباؤ مزید کم ہونے کا امکان ہے۔ تاہم کچھ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر چین نے دوبارہ بڑے پیمانے پر ذخائر بھرنے شروع کیے تو عالمی قیمتوں میں ایک بار پھر اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ برسوں میں عالمی تیل مارکیٹ کی سمت صرف جغرافیائی سیاست نہیں بلکہ توانائی کے نئے رجحانات اور چین کی حکمت عملی بھی طے کرے گی۔



