سوئٹزرلینڈ کا وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان

اثاثے غیر قانونی ثابت ہونے پر وینزویلا کے عوام کیلئے استعمال ہوں گے

برن (مانیٹرنگ ڈیسک)سوئٹزرلینڈ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے تمام اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ سوئس حکام کے مطابق یہ اثاثے ابتدائی طور پر چار سال تک منجمد رہیں گے یا اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک اس حوالے سے کوئی نیا سرکاری حکم جاری نہیں ہو جاتا۔

سوئس حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس خدشے کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے کہ اثاثوں کو ملک سے باہر منتقل نہ کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق اگر تحقیقات کے دوران یہ اثاثے غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ ثابت ہوئے تو انہیں وینزویلا کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے استعمال کیا جائے گا۔

سوئس حکومت نے واضح کیا کہ سوئٹزرلینڈ 2018 سے وینزویلا پر سفری پابندیاں عائد کر چکا ہے اور حالیہ فیصلہ انہی اقدامات کا تسلسل ہے۔

دوسری جانب، یہ بھی واضح رہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو حال ہی میں امریکی سپیشل فورسز نے ایک کارروائی کے دوران ان کے ملک سے گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس پیش رفت کے بعد وینزویلا مؤثر طور پر امریکی کنٹرول میں آ جائے گا۔

امریکی حکام کے مطابق امریکی حکومت کا خصوصی طیارہ رات کے وقت ایک فوجی اڈے پر اترا، جہاں سے صدر مادورو کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے نیویارک منتقل کیا گیا۔ وہاں ان پر منشیات سمگلنگ اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی جانی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق علی الصبح ہونے والی اس تیز رفتار کارروائی کے دوران امریکی کمانڈوز نے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لیا، جبکہ اسی دوران کراکس اور اس کے گرد و نواح میں فضائی حملے بھی کیے گئے۔

اس تمام پیش رفت کو عالمی سطح پر غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے خطے اور بین الاقوامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button