ایران کا ایٹمی عدم پھیلائو کے معاہدے سے نکلنے کا فیصلہ،نیا تنازع یا؟

تحریر:معظم فخر
ایران کی جوہری پالیسی میں آنے والی حالیہ تزویراتی تبدیلی محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے پورے سیکیورٹی پیراڈائم میں ایک ایسے زلزلے کی مانند ہے جس کے جھٹکے واشنگٹن سے لے کر تل ابیب تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تہران کی جانب سے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (NPT) سے علیحدگی کا اعلان اور پارلیمنٹ میں اس حوالے سے ہنگامی بل کی پیشکشی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ایران اب اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی ضابطوں کی پرواہ کیے بغیر ‘جارحانہ دفاع’ کی پالیسی پر گامزن ہو چکا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آیا ہے جب خطہ پچھلے کئی ہفتوں سے براہِ راست جنگ کی لپیٹ میں ہے اور ایران کی ٹاپ ٹیر قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد تہران کے پاس اپنی بقا کے لیے ایٹمی آپشن کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بظاہر باقی نہیں رہا۔
تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایران کا یہ اقدام عالمی برادری بالخصوص جوہری توانائی کے عالمی ادارے (IAEA) کی اس ناکامی کا شاخسانہ ہے جہاں وہ ایران کی پرامن جوہری تنصیبات کو اسرائیلی اور امریکی حملوں سے تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ تہران کا یہ موقف کہ آئی اے ای اے اب محض امریکہ اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کا ایک آلہ بن کر رہ گیا ہے، اس گہری بے اعتمادی کو ظاہر کرتا ہے جو عالمی اداروں کے دوہرے معیار کی وجہ سے جنم لے چکی ہے۔ نطنز، فردو اور پارچین جیسی حساس تنصیبات پر مسلسل بمباری نے ایرانی مقتدرہ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ جب بین الاقوامی قوانین انہیں تحفظ نہیں دے سکتے، تو ان قوانین کی پاسداری کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ این پی ٹی سے نکلنے کا مطلب یہ ہے کہ اب ایران کسی بھی قانونی رکاوٹ کے بغیر یورینیم کی افزودگی کو 90 فیصد یعنی ‘ویپن گریڈ’ تک لے جا سکے گا، جس کے بعد وہ ایٹمی دھماکا کرنے یا جوہری وار ہیڈز تیار کرنے کی مکمل صلاحیت حاصل کر لے گا۔
اس پوری صورتحال میں سب سے تشویشناک پہلو خطے میں ‘نیوکلیئر ریس’ یا جوہری دوڑ کا آغاز ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ جیسے اہم علاقائی ممالک پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے ایٹمی صلاحیت حاصل کی تو وہ بھی خاموش نہیں بیٹھیں گے اور اپنے جوہری پروگرام پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ میں شامل ہو جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کا وہ ‘نیوکلیئر ڈیٹرنس’ یا جوہری رعب جو دہائیوں سے اس کی برتری کا ضامن رہا ہے، اب قصہ پارینہ بن جائے گا۔ اگر ایک طرف اسرائیل ہے تو دوسری طرف ایران، سعودی عرب اور ترکیہ جیسے ممالک کا ایٹمی طاقت بننا پورے خطے کو ایک ایسے بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر دے گا جہاں معمولی سی غلطی عالمی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے تعلیمی اداروں، جیسے تہران یونیورسٹی، اور سویلین انفراسٹرکچر پر حملوں نے جنگ کو ایک ایسے درجے پر پہنچا دیا ہے جہاں اب واپسی کے تمام راستے مسدود ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
صحافیانہ تجزیے کے مطابق، ایران کے اندرونی نظام میں اس بل کی منظوری کا عمل نہایت تیز رفتار ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ریاست کی تمام اکائیاں، بشمول پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور سیاسی قیادت، ایک ہی پیج پر ہیں۔ ایرانی نظامِ حکومت میں ‘شوریٰ نگہبان’ کی موجودگی اور رہبرِ اعلیٰ کی حتمی منظوری اس فیصلے کو ایک ایسی قانونی اور مذہبی ڈھال فراہم کر دے گی جسے چیلنج کرنا مشکل ہوگا۔ خاص طور پر جب تہران میں نئی قیادت کا انتخاب اور اس دوران ہونے والی اسرائیل کی مداخلت نے ایرانیوں میں ایک نیا جوشِ انتقام بھر دیا ہے۔ ایران کا یہ موقف کہ اگر امریکہ نے تہران یونیورسٹی پر حملے کی معافی نہ مانگی تو پورے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تعلیمی کیمپسز کو نشانہ بنایا جائے گا، اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اب یہ جنگ صرف عسکری اہداف تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک ہمہ گیر تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
مستقبل قریب میں اس فیصلے کے اثرات عالمی سیاست پر نہایت گہرے ہوں گے۔ ایک طرف پاکستان میں ہونے والی امن کوششوں اور مذاکراتی عمل کو اس پیش رفت سے شدید دھچکا لگا ہے، تو دوسری طرف برکس (BRICS) اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے ساتھ ایران کے نئے جوہری تعاون کے امکانات نے مغرب کے لیے نئی پریشانیاں کھڑی کر دی ہیں۔ ایران اب مغرب کے بجائے مشرق کی طرف دیکھ رہا ہے جہاں وہ نئے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اپنی جوہری پالیسی کو ایک نئی جہت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگر ایران نے تین ماہ کے نوٹس کے بعد این پی ٹی سے باقاعدہ علیحدگی اختیار کر لی، تو یہ جدید تاریخ کا ایک بڑا تزویراتی موڑ ہوگا جو عالمی سفارت کاری کی ناکامی اور طاقت کے نئے مراکز کے ابھرنے کا اعلان ہوگا۔ اب گیند عالمی طاقتوں کے کورٹ میں ہے کہ وہ ایران کو اس انتہائی قدم سے روکنے کے لیے کوئی ٹھوس ضمانت فراہم کرتی ہیں یا خطے کو ایک ایسی ہولناک ایٹمی جنگ کی طرف دھکیل دیا جائے گا جس کا فاتح کوئی نہیں ہوگا۔



