اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے سپین کو دھمکی دیدی

تل ابیب(جانوڈاٹ پی کے) اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کی جانب سے اسپین کے خلاف سخت اور دھمکی آمیز بیانات کے بعد عالمی سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسپین پہلے ہی فلسطین کے معاملے پر نسبتاً واضح مؤقف اختیار کرتا آیا ہے، اور حالیہ بیانات نے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف یورپی سیاست بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔
سپین میں حالیہ سروے اور سیاسی ردِعمل کے بعد اسرائیلی قیادت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کی جارحانہ پالیسی اور بیانات خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسپین سمیت کئی یورپی حلقے غزہ اور فلسطین کے مسئلے پر عالمی دباؤ بڑھانے کی بات کر رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی ریاست ہم پر حملہ کرنے والوں کے سامنے خاموش نہیں رہے گی۔اسپین نے دنیا میں ہمارے ہیروز،آئی ڈی ایف کے سپاہیوں،اخلاقی فوج کے سپاہیوں کو بدنام کیا ہے۔اس لیے میں نے ہسپانوی نمائندوں کو کریات گٹ میں رابطہ مرکز سے ہٹانے کی ہدایت کی ہے، جب سپین نے اسرائیل کیخلاف بار بار کھڑے ہونے کا انتخاب کیا ہے۔جو بھی دہشت گرد حکومتوں کے بجائے ریاست اسرائیل پر حملہ کرے، جو بھی ایسا کرے، وہ خطے کے مستقبل میں ہمارا ساتھی نہیں ہوگا۔میں اس منافقت اور اس دشمنی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔میں کسی بھی ملک کو اس کی فوری قیمت ادا کیے بغیر ہمارے خلاف سفارتی جنگ چھیڑنے کی اجازت دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔



