اسرائیلی وزیر اعظم پھنس گئے،صدر کا معافی سے انکار،ٹرمپ کارڈ اُلٹ گیا

تل ابیب(جانوڈاٹ یی کے،مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیل کی وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے وزیراعظم نیتن یاہو کو کرپشن کیسز میں صدارتی معافی دینے کی سفارش نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے اپنی قانونی رائے مکمل کرنے کے بعد اسے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو بھیج دی۔رپورٹس کے مطابق وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ وزیراعظم کی معافی کی درخواست قانونی تقاضوں پر پوری نہیں اترتی اس لیے معافی دینا مشکل ہوگا۔

خیال ہے کہ نیتن یاہو کے خلاف مقدمہ ابھی زیرِ سماعت ہے اور انہیں ابھی تک کسی جرم میں سزا نہیں سنائی گئی۔

علاوہ اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی معافی کی درخواست میں نہ تو جرم کا اعتراف کیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار کیا ہے جو قبل از وقت معافی کے لیے اہم شرط سمجھی جاتی ہے۔

اسرائیل کی ہائی کورٹ پہلے ہی یہ قرار دے چکی ہے کہ کسی شخص کو سزا سے پہلے بھی معافی دی جا سکتی ہے لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ درخواست گزار اپنے جرم کا اعتراف کرے۔

ادھر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی صدر پر نیتن یاہو کو معافی دینے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

تاہم صدر اسحاق ہرزوگ نے واضح کردیا تھا کہ وہ اس معاملے پر فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کے بغیر اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کریں گے۔

نیتن یاہو کرپشن کیس: مختصر تاریخ

سب سے پہلے 2019 میں اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل نے نیتن یاہو پر رشوت، فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات عائد کیے تھے۔اگلے ہی برس تل ابیب ڈسٹرکٹ کورٹ میں اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف باقاعدہ مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تھی۔جس کے بعد 5 برسوں تک ہونے والی مختلف سماعتوں میں ٹھوس شواہد بھی پیش کیے گئے لیکن نیتن یاہو ان تمام الزامات سے انکاری رہے۔البتہ2025میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے خلاف جاری کرپشن مقدمے کے دوران صدارتی معافی کی درخواست دائر کی تھی۔جس پر ملک بھر میں متضادات رائے سامنے آئی تھیں اور اب وزارتِ انصاف کے پارڈن ڈپارٹمنٹ نے نیتن یاہو کی معافی کی سفارش نہ کرنے کی قانونی رائے تیار کر لی تاہم حتمی فیصلہ صدر اسحاق ہرزوگ کریں گے۔

مزید خبریں

Back to top button