ایرانی کے تگڑے جواب پر اسرائیل کی چیخیں نکل گئیں،اقوام متحدہ کی منت سماجت

تہران/تل ابیب/لاہور(جانوڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب ایران نے اسرائیل کے جوہری شہر ڈیمونا پر ایک انتہائی خوفناک میزائل حملہ کیا جس نے اسرائیلی دفاعی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور 20 اور 21 مارچ کی درمیانی رات ہونے والے اس حملے میں اگرچہ میزائل جوہری مرکز کے عین اوپر نہیں گرا لیکن قریبی رہائشی علاقوں میں گرنے سے 100 کے قریب افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جس کے بعد اسرائیل نے بوکھلاہٹ میں اقوامِ متحدہ سے فوری طور پر امن اجلاس بلانے اور جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی اپیل کر دی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اب عالمی سطح پر خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ اسے یورپ کی جانب سے وہ حمایت حاصل نہیں ہو سکی جس کی اسے توقع تھی۔
پاکستانی میڈیا میں عید شوز کے دوران ایک بڑی تلخی دیکھنے میں آئی جہاں سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی اور ارشاد بھٹی کے درمیان ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے معاملے پر شدید جھڑپ ہوئی جہاں ارشاد بھٹی نے شامی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی تو آپ ان لوگوں کے ساتھ تھے جس پر مجیب الرحمان شامی برہم ہو گئے اور ماحول کافی تلخ ہو گیا جبکہ اس بحث کا پس منظر جنرل ضیاء الحق کا دورِ آمریت ہے جس کے بارے میں شامی صاحب خود ماضی میں اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے اور دیگر صحافیوں نے اس وقت الیکشن ملتوی کرانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ الیکشن کی صورت میں پیپلز پارٹی دوبارہ جیت جائے گی اور اس واقعہ نے اب سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا ماضی کے فیصلوں پر آج کے صحافیوں کو جوابدہ ہونا چاہیے یا نہیں۔




