العُلا اور خیبر: پراسرار سعودی خطے اور صدیوں قدیم حیران کن دریافتیں

نہال ممتاز

صدیوں تک خاموش رہنے والے سعودی عرب کے پراسرار صحراؤں نے اچانک اپنی زبان کھول دی ہے۔ شمال مغرب میں واقع العُلا اور خیبر وہ مقامات ہیں جہاں صدیوں قدیم تہذیبیں، تجارتی راستے اور اسرار آج جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے بے نقاب ہو رہے ہیں۔

العلاء میں مدائنِ صالح (الحِجر) کے پتھریلے مقبرے آج بھی نبطی فنِ تعمیر کی حیرت انگیز مثالیں پیش کرتے ہیں، اور قرآن میں ذکر شدہ قومِ ثمود کے آثار یہاں موجود ہیں۔ یہ وہ قوم تھی جس نے پہاڑوں کو تراش کر شہر بنایا، حضرت صالحؑ کی اونٹنی کو قتل کرنے کے بعد اللہ کے عذاب کے ہاتھوں مٹ گئی، اور آج بھی ہر چٹان اور ہر نقش اس عبرت ناک انجام کی کہانی سناتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح تنبیہ کے باوجود، یہ علاقہ آج جائے عبرت کی زمین سے سیاحتی مقام بن چکا ہے۔

یہاں موجود ہاتھی کی شکل کی چٹان ہو یا قدیم عمارتوں پر بنے پراسرار نقوش، محققین اور سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔ العُلا کے جدید چہرے میں مرایا بلڈنگ بھی شامل ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی شیشے کی عمارت ہے اور گنیز ورلڈ ریکارڈ میں درج ہے، صحرائی مناظر کا عکس پیش کرتی ہے اور کنسرٹ ہال کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اسی خطے میں نجمہ نام کا نسوانی مجسمہ آرٹ اور قدیم عقائد کی جھلک دکھاتا ہے، مگر اس کے گرد پراسرار کہانیاں آج بھی محققین کو حیران کرتی ہیں۔

اسی علاقے میں واقع خیبر بھی کم حیران کن نہیں۔ یہاں ہزاروں سال پرانی مستحکم بستی al‑Natah موجود ہے، جس میں شہری ڈیزائن، نیویگیشن کے راز اور معاشرتی طرز زندگی چھپے ہیں۔ خیبر کی پہاڑیاں اور بنجر زمین آج بھی پراسرار ماحول پیدا کرتی ہیں، جہاں رات کے وقت عجیب روشنی اور غیر معمولی آوازیں سنائی دیتی ہیں، گویا وہ قومیں ابھی بھی زمین کے نیچے چھپی ہوئی ہوں۔

حالیہ سرویز میں ماہرین نے ہزاروں نامعلوم ڈھانچے، قدیم بستیاں، پتھریلی دیواریں اور لمبے راستے شناخت کیے، جو مختلف اویسز اور بستیوں کو جوڑتے اور سلک روڈ کے شاخوں کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ یہ راستے واضح کرتے ہیں کہ عربستان صرف ویران ریت نہیں، بلکہ ہزاروں سال قبل عالمی تجارتی نیٹ ورک کا فعال مرکز رہا ہے۔

ان دریافتوں میں کچھ نشانات نیولیتھک اور برونز ایج کے ہیں، یعنی چھ سے سات ہزار سال پرانے، اور کئی مقامات پر تدفینی راستے اور قدیم قبریں بھی سامنے آئی ہیں جو مذہبی اور سماجی زندگی کے راز کھولتی ہیں۔

یہ سب ممکن ہوا جدید ڈرونز اور ائیرئل میپنگ کی مدد سے، جو چند گھنٹوں میں وہ علاقہ اسکین کر لیتے ہیں جسے پہلے برسوں میں بھی مکمل دیکھنا ممکن نہیں تھا۔ فضائی تصاویر کو ڈیجیٹل 3D ماڈلز میں بدلا گیا، اور زمین کے ہر چھپے ہوئے نقشے کو زندہ کیا گیا۔ یہ تصویری میپنگ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو روایتی زمینی کھدائی کے مقابلے میں کئی گنا تیز اور مؤثر معلومات فراہم کرتی ہے۔

یہ دریافتیں سعودی عرب کی تاریخ کو نہ صرف قدیم ثابت کرتی ہیں بلکہ سلک روڈ کے چھپے ہوئے راز بھی بے نقاب کرتی ہیں۔ صحراؤں میں چھپے یہ ہزاروں سال پرانے راستے اور بستیوں کے آثار بتاتے ہیں کہ انسان کی تجارت، سفر اور تہذیبیں صحراء کی سخت دھول میں بھی کیسے زندہ رہتی تھیں۔ یہ ہمیں سکھاتی ہیں کہ تاریخ کبھی دفن نہیں ہوتی، بس اس پر جمی صدیوں کی دھول انتظار کرتی ہے کہ کوئی اس کے چھپے ذرات سے حقیقت کا آئینہ نکال کر دنیا کے سامنے رکھ دے۔

مزید خبریں

Back to top button