مادوروکے بعد خود ٹرمپ کی باری؟ لیما کے نجومیوں کی سنسنی خیز پیشگوئیاں

نہال ممتاز
ہر سال دنیا طاقت کے مراکز میں مستقبل تلاش کرتی ہے، مگر پیرُو میں مستقبل آگ کے گرد بیٹھ کر پکارا جاتا ہے۔ لیما کی سڑکوں پر جلتی جڑی بوٹیوں، پراسرار نقوش اور قدیم منتروں کے درمیان شامان کہلانے والے نجومی آنے والے وقت کے بارے میں جملے کہتے ہیں،ایسے جملے جنہیں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مگر ان جملوں میں چھپے اشاروں کے مطابق جب وینزویلا میں اقتدار کی بنیادیں ہلیں تو 2026 کے لیے کی گئی باتیں یکایک خطرے کی گھنٹی بن گئیں۔
شامانوں کے مطابق 2026 وہ سال ہے جب طاقتور عہدے انسان کو سہارا نہیں دیں گے بلکہ اس کا بوجھ بن جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا ایک مرکزی چہرہ اپنے ہی جسم کے خلاف جنگ لڑتا نظر آ سکتا ہے۔ بیماری اچانک نہیں آئے گی بلکہ مسلسل دباؤ، غصے اور عدم برداشت کا نتیجہ ہو گی، اور فیصلے تقریروں سے نہیں بلکہ میڈیکل رپورٹس سے جُڑ جائیں گے۔ اسی اشارے کو دنیا نے فوراً ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کے ساتھ جوڑ دیا۔
جنگوں کے بارے میں شامان اور زیادہ سخت ہو جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک 2026 میں بندوقیں شاید خاموش ہو جائیں، مگر اصل جنگ پردے کے پیچھے شدت اختیار کرے گی۔ روس اور یوکرین جیسے تنازعات میں امن کا اعلان ہو سکتا ہے، مگر ایسا امن جو کاغذ پر ہو اور کسی بھی لمحے بکھر سکتا ہو۔ اس سال کا سب سے بڑا خطرہ یہی ہو گا کہ دنیا جنگ کے ختم ہونے کے دھوکے میں مبتلا رہے گی۔
قدرت کے حوالے سے شامانوں کا پیغام سب سے زیادہ خوفناک ہے۔ ان کے مطابق زمین 2026 میں انتباہ نہیں دے گی بلکہ براہِ راست جواب دے گی۔ موسم اپنی حدیں توڑیں گے، سمندر خاموش نہیں رہیں گے اور زمین اپنی طاقت یاد دلائے گی۔ ان کے نزدیک یہ آفات نہیں بلکہ فیصلے ہوں گےاور فیصلوں کی قیمت ہمیشہ بھاری ہوتی ہے۔
اپنے ملک پیرُو کے لیے وہ ایک ایسے سیاسی چہرے کی واپسی کا عندیہ دیتے ہیں جسے ماضی سمجھ لیا گیا تھا، مگر جس کا اثر اب بھی باقی ہے۔ یہ واپسی استحکام نہیں بلکہ ایک نئی کشمکش کو جنم دے سکتی ہے۔ ساتھ ہی وہ خبردار کرتے ہیں کہ 2026 میں عالمی اتحاد کمزور پڑ جائیں گے، وعدے ٹوٹیں گے اور دنیا ایک مضبوط مرکز کے بجائے کئی خطرناک دائروں میں بٹتی چلی جائے گی۔
یہ سب نہ سائنسی سچ ہے اور نہ حتمی فیصلہ، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ جب طاقت خود کمزور پڑنے لگے تو ایسی پیشگوئیاں محض کہانیاں نہیں رہتیں۔ مادورو کے بعد یہ دھواں دار دعوے اب ہوا میں تحلیل نہیں ہو رہے,یہ 2026 کے سیاسی اور عالمی منظرنامے پر گہرا سایہ بن کر منڈلا رہے ہیں۔

