خلا: اگلی عالمی جنگ کا گمنام محاذ

نہال ممتاز

ہم نے صدیوں تک جنگوں کو زمین، سمندر اور فضا تک محدود دیکھا، مگر ہماری سوچ سے پرے ایک نیا اور کہیں زیادہ خطرناک میدان کھل چکا ہے،

خلا:

یہ کوئی سائنس فکشن نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے، جہاں عالمی طاقتیں نہ صرف ہتھیاروں بلکہ مستقبل کی معیشت اور توانائی پر قبضے کے لیے صف آرا ہیں۔ جو جنگ کبھی توپ و تفنگ سے لڑی جاتی تھی، اب وہ خاموش سگنلز، کوڈز اور مدار میں گردش کرتے سیٹلائٹس کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔

روس اور یوکرین کی جنگ نے اس نئی حقیقت کو عیاں کر دیا، جب ایک سیٹلائٹ کو ہائی جیک کر کے یوکرینی ٹی وی چینلز پر روسی پروپیگنڈا نشر کیا گیا۔ ایک لمحے کو سوچیے، اگر چند لائنوں پر مشتمل کوڈ یا ایک سگنل کی مداخلت کسی ملک کے میڈیا، مواصلات اور دفاعی نظام کو قابو میں لا سکتی ہے، تو میدانِ جنگ کی اصل شکل کیا رہ جاتی ہے؟

آج زمین کے گرد 12 ہزار سے زائد فعال سیٹلائٹس گردش کر رہے ہیں۔ یہی سیٹلائٹس ہماری روزمرہ زندگی کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔فون کالز، انٹرنیٹ، بینکنگ، نیویگیشن، فوجی آپریشنز اور میزائل حملوں کی پیشگی اطلاع سب انہی پر منحصر ہے۔ لیکن یہی ٹیکنالوجی سب سے بڑی کمزوری بھی بن چکی ہے۔ کسی ایک طاقت کا ان سیٹلائٹس کو ناکارہ بنانا، بغیر ایک بھی گولی چلائے، پورے ملک کو مفلوج کر سکتا ہے۔

اسی تناظر میں امریکی حکام نے یہ خطرناک انتباہ جاری کیا ہے کہ روس ایک ایسا ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے جو زمین کے نچلے مدار میں موجود تقریباً تمام سیٹلائٹس کو ایک ساتھ تباہ کر سکتا ہے۔ ماہرین اسے خلا کا کیوبن میزائل بحران قرار دے رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو خلا کا ایک بڑا حصہ کم از کم ایک سال تک ناقابل استعمال ہو جائے گا، اور یہ 1967 کے اس عالمی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہوگی جو خلا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر پابندی عائد کرتا ہے۔

لیکن یہ مقابلہ صرف تباہی تک محدود نہیں۔ چاند پر موجود ہیلیم تھری کو مستقبل کی توانائی سمجھا جا رہا ہے، جو نیوکلیئر فیوژن کے ذریعے دنیا کی توانائی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ امریکہ، روس اور چین اس دوڑ میں شامل ہیں کہ کون پہلے چاند پر اڈے بناتا ہے اور وہاں موجود وسائل پر کنٹرول حاصل کرتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک جو ملک خلا کی توانائی پر قابض ہوگا، وہی اگلی عالمی سپر پاور بنے گا۔

اسی بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر امریکہ نے 2019 میں اسپیس فورس قائم کی۔ مقصد واضح ہے: اپنے سیٹلائٹس کا تحفظ اور خلا میں امریکی مفادات کا دفاع۔ X-37B جیسے خودکار خلائی جہازوں کے ذریعے خفیہ مشنز بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کی تفصیلات دنیا سے پوشیدہ رکھی جاتی ہیں۔

چین بظاہر امریکہ پر خلا کو جنگی میدان میں تبدیل کرنے کا الزام لگاتا ہے، مگر عملی طور پر وہ خود بھی چاند پر ایٹمی بجلی گھروں اور مستقل تنصیبات کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ یہ تضاد اس بات کا ثبوت ہے کہ خلا میں یہ دوڑ محض دفاعی نہیں بلکہ معاشی، توانائی اور عالمی برتری کی جنگ ہے۔

خلا اب خاموش، بے ضرر اور دور افتادہ دنیا نہیں رہا۔ یہ طاقتوں کے ٹکراؤ کا نیا اسٹیج بن چکا ہے، جہاں ایک غلط فیصلہ یا ایک خفیہ حملہ پوری انسانیت کو اندھیرے میں دھکیل سکتا ہے۔ زمین کے بعد، اصل سوال یہ نہیں کہ جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ جب ہوگی تو کیا ہم اسے روکنے کے لیے تیار بھی ہوں گے یا نہیں۔

مزید خبریں

Back to top button