آسمان میں گھومتے خاموش جنگی ہتھیار

نہال ممتاز

فرض کریں کسی ملک کی فوج پوری تیاری کے ساتھ روانہ ہو، اسلحہ تیار ہو، حکمتِ عملی مکمل ہو—اور اچانک ایک بادل، ایک ہوا کا رخ یا سمندر کی ایک بے قابو لہر سب کچھ بدل دے۔ جدید دنیا میں جنگ کا فیصلہ اب صرف جنرل نہیں کرتے، بلکہ وہ موسم بھی کرتا ہے جسے خلا میں گھومتے سیٹلائٹس دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو 13 جنوری 2026 کو امریکی کانگریس میں ہونے والی ایک خاموش مگر نہایت معنی خیز سماعت میں سامنے آئی۔

ہم عام طور پر موسم کو ایک سادہ سی روزمرہ خبر سمجھتے ہیں—آج بارش ہوگی یا نہیں، سردی بڑھے گی یا کم۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جدید دنیا میں موسم اب صرف قدرتی عمل نہیں رہا، بلکہ ایک اسٹریٹجک فیکٹر بن چکا ہے۔ خلا میں موجود موسمی سیٹلائٹس اب محض بادلوں کی تصاویر نہیں لیتے، بلکہ وہ جنگ، امن اور انسانی بقا کے فیصلوں میں شریک ہو چکے ہیں۔

جنگیں اب صرف زمین پر نہیں لڑی جاتیں۔ آج کی جنگیں ڈیٹا، وقت اور پیشگی اندازوں پر جیتی یا ہاری جاتی ہیں۔ ایک غلط موسم کی پیش گوئی، ایک طوفان کا غلط اندازہ، یا سمندری لہروں کی بروقت اطلاع نہ ہونا، پورے فوجی آپریشن کو ناکام بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ جیسے ممالک کے لیے موسمی سیٹلائٹس محض سائنسی آلات نہیں بلکہ خاموش محافظ ہیں، جو خلا سے زمین پر ہونے والی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ان سیٹلائٹس کے ذریعے ملنے والا ڈیٹا بحری بیڑوں کی نقل و حرکت سے لے کر فضائی آپریشنز تک، ہر سطح پر فیصلوں کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں اچانک شدید طوفان آ رہا ہو، تو فوجی مشن مؤخر بھی ہو سکتا ہے اور راستہ بھی بدلا جا سکتا ہے۔ یہی معلومات قدرتی آفات کے وقت امدادی کارروائیوں میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ یوں ایک ہی سیٹلائٹ، جنگ اور انسانیت—دونوں کا محافظ بن جاتا ہے۔

اس سماعت میں یہ نکتہ بھی نمایاں ہوا کہ موسمی سیٹلائٹس پر انحصار صرف امریکہ تک محدود نہیں۔ عالمی طاقتیں جانتی ہیں کہ جس کے پاس بہتر موسمی ڈیٹا ہوگا، اس کے فیصلے اتنے ہی درست ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ خلا میں سائنسی دوڑ دراصل ایک خاموش سکیورٹی مقابلہ بھی ہے۔ موسمی سیٹلائٹس کا نیٹ ورک جتنا مضبوط ہوگا، اتنا ہی ملک غیر متوقع خطرات سے محفوظ رہے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عام شہری کو جس موسمی ایپ سے اگلے دن کی بارش کا اندازہ ملتا ہے، اسی ڈیٹا کی ایک اور شکل فوجی کمانڈ سینٹرز میں جنگی حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہوتی ہے۔ فرق صرف اسکرین کا ہے، معلومات وہی ہیں—طاقتور، حساس اور فیصلہ کن۔

یہ خبر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ مستقبل میں جنگیں شاید بندوقوں سے کم اور آب و ہوا کے تجزیے سے زیادہ لڑی جائیں گی۔ جہاں موسم کا ایک درست اندازہ ہزاروں جانیں بچا سکتا ہے، وہیں ایک غلطی پوری دنیا کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ ایسے میں موسمی سیٹلائٹس صرف سائنسی کامیابی نہیں، بلکہ جدید دنیا کا وہ خاموش ہتھیار ہیں جو نظر تو نہیں آتے، مگر ہر لمحہ تاریخ لکھ رہے ہوتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button