ٹرمپ کا نیا کارنامہ ،ماحولیاتی تباہی کی گھنٹی بجا دی

نہال ممتاز
خبر سادہ ہے مگر اثرات غیر معمولی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو درجنوں بین الاقوامی موسمیاتی معاہدوں اور اداروں سے نکالنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بظاہر یہ فیصلہ امریکی خودمختاری اور معیشت کے نام پر کیا گیا، مگر حقیقت میں اس کا بوجھ امریکہ سے زیادہ دنیا، خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے کندھوں پر آن پڑا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کوئی دور کا خدشہ نہیں رہی۔ سیلاب، شدید گرمی، خشک سالی اور غذائی قلت اب روزمرہ حقیقت بن چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ جیسے خطے پہلے ہی کمزور معیشتوں اور محدود وسائل کے ساتھ اس بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں جب دنیا کا بڑا صنعتی ملک اجتماعی ذمہ داری سے پیچھے ہٹتا ہے تو سب سے زیادہ نقصان انہی ممالک کو ہوتا ہے جو اس آلودگی کے اصل ذمہ دار بھی نہیں۔
یہ فیصلہ مالی مدد اور تکنیکی تعاون تک محدود اثر نہیں رکھتا بلکہ عالمی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ موسمیاتی معاہدے طاقت کے زور پر نہیں بلکہ باہمی یقین اور اشتراک سے چلتے ہیں۔ جب ایک بڑی طاقت یہ پیغام دیتی ہے کہ وہ مشترکہ عالمی فیصلوں کی پابند نہیں، تو دنیا میں اجتماعی نظم کمزور پڑنے لگتا ہے، اور ہر ملک اپنی بقا کی جنگ تنہا لڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
اس معاملے کی حساسیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب محض ماحولیات کا مسئلہ نہیں رہی۔ یہ خوراک، پانی، صحت، ہجرت اور سیاسی استحکام سے جڑ چکی ہے۔ موسمی دباؤ بڑھنے سے کمزور ریاستیں عدم استحکام کا شکار ہوتی ہیں، جس کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی سلامتی کو متاثر کرتے ہیں۔
امریکی فیصلہ بظاہر ایک داخلی سیاسی اقدام دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے نتائج عالمی ہیں۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب دنیا کو قیادت، تعاون اور ذمہ داری کی ضرورت تھی۔ اس کے برعکس پسپائی کا یہ قدم موسمی بحران کو مزید بے قابو بنانے کا خطرہ رکھتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے دور میں کسی ایک طاقت کی لاتعلقی دراصل پوری دنیا کے لیے ایک مشترکہ خطرے کی گھنٹی ہے۔

