CES 2026:مستقبل کی نمائش یا انسان کے لیے وارننگ؟
رائٹر، نہال ممتاز

نہال ممتاز
لاس ویگاس میں منعقد CES 2026 کو اگر ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو شاید یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کی نمائش کم اور مستقبل کی ریہرسل زیادہ لگ رہی ہے۔ ایسی ریہرسل جس میں اسٹیج پر موجود مشینیں پُراعتماد ہیں اور انسان ہال میں بیٹھ کر یہ سوچ رہا ہے کہ اگلے منظر میں اس کا کردار کیا رہ جائے گا۔
چند دن پہلے تک CES کے بارے میں خبریں اندازوں پر مبنی تھیں۔ کہا جا رہا تھا کہ AI ہر چیز میں ہو گی، لیپ ٹاپس کی بھرمار ہو گی، چِپس کی جنگ شدت اختیار کرے گی اور روبوٹس نمایاں ہوں گے۔ اب جب نمائش شروع ہو چکی ہے تو احساس یہ ہو رہا ہے کہ یہ سب کچھ تو ہوا، مگر اس سے کچھ زیادہ بھی ہو گیا۔
سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت اب محض ایک فیچر نہیں رہی۔ یہ اب پورا ماحول بن چکی ہے۔ لیپ ٹاپ AI سے لیس ہیں، اسکرینیں AI سے سمارٹ ہو چکی ہیں، روبوٹس AI کے سہارے گھروں، یونیورسٹیوں اور شو رومز میں گھوم رہے ہیں، اور گاڑیاں ایسی باتیں کر رہی ہیں جیسے ڈرائیور ہونا محض ایک عادت ہو، ضرورت نہیں۔
لیپ ٹاپس کو ہی دیکھ لیجیے۔ CES 2026 میں پیش ہونے والے لیپ ٹاپ ایسے لگ رہے ہیں جیسے انہیں صرف کام کے لیے نہیں بلکہ فیصلے کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہو۔ ہر کمپنی کارکردگی، بیٹری اور AI پاور کے دعوے کر رہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب لیپ ٹاپ یہ نہیں کہتے کہ “آپ مجھ سے کیا کرنا چاہتے ہیں”، بلکہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ “ہم دیکھ لیتے ہیں آپ کو کیا کرنا چاہیے”۔
چِپس کی دنیا میں بھی خاموش مگر گہری جنگ جاری ہے۔ Intel، AMD، Qualcomm اور Nvidia ایک دوسرے کو گھور نہیں رہے، بلکہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی پوری تیاری میں ہیں۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں فتح کا اعلان پریس کانفرنس میں ہوتا ہے، مگر اثر اگلے دس سال کی ٹیکنالوجی پر پڑتا ہے۔ جس کے پاس بہتر چِپ ہو گی، اسی کے پاس رفتار، کنٹرول اور بالآخر مارکیٹ ہو گی۔
CES 2026 میں روبوٹس کی موجودگی اس قدر نمایاں ہے کہ اب انہیں “مستقبل کی جھلک” کہنا شاید کم ہو۔ یہ حال کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ گھریلو کام کرنے والے روبوٹس، یونیورسٹیوں میں اسسٹنٹ بننے والے روبوٹس اور سمارٹ ڈسپلے کے ساتھ چلنے پھرنے والے AI بوٹس — یہ سب بتا رہے ہیں کہ مشینیں اب صرف حکم ماننے کے موڈ میں نہیں، بلکہ تعاون کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔
گاڑیوں کے شعبے میں بھی صورتحال دلچسپ ہے۔ خودکار ڈرائیونگ کو اب کسی تجربے کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا، بلکہ ایک منطقی اگلے قدم کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔ فولڈ ہونے والا اسٹیئرنگ وہیل ہو یا AI کی مدد سے فیصلے کرنے والی گاڑیاں — پیغام واضح ہے: انسان کی موجودگی اہم تو ہے، مگر لازمی نہیں رہی۔
ڈسپلے ٹیکنالوجی میں OLED اور AI کا ملاپ ایک اور رخ دکھاتا ہے۔ اسکرینیں اب صرف دکھانے کے لیے نہیں رہیں، بلکہ سمجھنے اور ردعمل دینے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہیں۔ یونیورسٹی میں پڑھانے والا AI روبوٹ یا سمارٹ اسکرین اس بات کی علامت ہے کہ تعلیم، کام اور روزمرہ زندگی میں ٹیکنالوجی کی شمولیت اب رسمی نہیں رہی، عملی ہو چکی ہے۔
ایک عرصے سے یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ کیا AI ایک عارضی ببل ہے؟ CES 2026 کے بعد یہ سوال کمزور پڑتا دکھائی دیتا ہے۔ جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ وقتی جوش نہیں بلکہ ایک منظم، مہنگی اور طویل المدتی تعمیر لگتی ہے۔ ایسی تعمیر جس میں بنیادیں رکھی جا رہی ہیں اور چھت بعد میں ڈالی جائے گی۔
اصل سوال اب یہ نہیں رہا کہ AI آئے گی یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ انسان خود کو اس نئے نظام میں کہاں رکھے گا۔ CES 2026 ہمیں یہ احساس دلا رہا ہے کہ مستقبل خاموشی سے نہیں آئے گا، بلکہ بھرپور انداز میں دروازہ کھول کر داخل ہو چکا ہے۔


