​چاند ٹوٹنے کے قریب: "دی ٹائم مشین” کی پیش گوئی سچ ہونے جا رہی ہے؟

​نہال ممتاز

​آسمان پر چمکتا ہوا چاند، جسے ہم صدیوں سے سکون اور ٹھنڈک کی علامت سمجھتے رہے ہیں، درحقیقت اپنے اندر ایک ہولناک ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے گزر رہا ہے جو محض کوئی جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ ایک بڑی کائناتی وارننگ ہے۔ کروڑوں سالوں سے جاری ٹھنڈک کے عمل نے چاند کے اندرونی مرکز کو اس حد تک سکیڑ دیا ہے کہ اس کے محیط سے اب تک 150 فٹ کا گھیراؤ چھین چکا ہے۔ فلکیاتی پیمانے پر یہ سکڑاؤ ایک بہت بڑی جغرافیائی ہلچل ہے جو چاند پر کئی کئی گھنٹوں طویل ایسے زلزلے پیدا کر رہا ہے جنہیں ‘مون کوئیکس’ کہا جاتا ہے۔ بالکل کسی سوکھے ہوئے انگور کی طرح جس کا اندرونی حصہ ٹھنڈا ہونے پر اس کی جلد پر جھریاں ڈال دیتا ہے، چاند کی سخت اور بے جان سطح پر پڑنے والی یہ جھریاں دراصل ہزاروں میل طویل وہی خوفناک دراڑیں ہیں جنہیں ماہرین ‘تھرسٹ فالٹس’ کا نام دے رہے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں تخیل اور حقیقت ایک دوسرے سے ٹکراتے محسوس ہوتے ہیں۔

​سال 2002 کی مشہور زمانہ ہالی ووڈ فلم ‘دی ٹائم مشین’ کا وہ منظر آج ایک ڈراؤنی حقیقت بن کر ابھر رہا ہے جس میں انسان چاند پر بستیاں بسانے کی ہوس میں وہاں قدرت سے ایسی چھیڑ چھاڑ کرتا ہے جس کے نتیجے میں آسمان کا یہ روشن چراغ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر گرنے لگتا ہے۔ اس وقت یہ محض ایک تخیل اور سپیشل ایفیکٹس کا کمال معلوم ہوتا تھا، لیکن آج ایلون مسک جیسے ارب پتیوں کے ‘مون بیس الفا’ جیسے بلند و بانگ دعوے اس فلمی منظر کو حقیقت کے قریب لا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم میں چاند پر بستیاں بسانے اور اس کے ٹوٹنے کا ٹائم فریم 2030 سے 2037 دکھایا گیا ہے۔ یہ ٹائم فریم ایلون مسک کے مریخ چھوڑ کرچاند پر آباد کاری کے متعین ٹائم فریم کے بے حد قریب ہے

تاہم ،​ستم ظریفی دیکھیے کہ مسک جس قطب جنوبی پر اپنی جدید بستی بسانے کا خواب دیکھ رہا ہے، قدرت کے فیصلے کے مطابق وہی علاقہ ان نئی دراڑوں اور زلزلوں کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ وہاں آنے والے یہ زلزلے نہ صرف جدید مشینوں اور لیبارٹریز کو ملبے کا ڈھیر بنا سکتے ہیں بلکہ چاند کی ڈھلوانوں پر مٹی کے ایسے ہولناک تودے گرا سکتے ہیں جن کا تصور بھی زمین پر ممکن نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قدرتی عمل کے ساتھ ساتھ انسانی مداخلت، بھاری مشینری کی کھدائی اور چاند کے قدرتی توازن سے چھیڑ چھاڑ اسے اسی انجام کی طرف تیزی سے تو نہیں لے جائے گی جہاں یہ ٹوٹ کر بکھر جائے؟

چاند کی سطح پر بننے والی یہ ایک ہزار سے زائد گہری دراڑیں محض سائنسی دریافت نہیں بلکہ کائنات کا وہ پیغام ہیں جسے نظر انداز کرنا پورے سیارہ زمین کے لیے ایک بڑے المیے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button