ایران امریکہ کشیدگی :جنگ کا تھرمامیٹر بنتی عالمی منڈیاں ،خطے پر اثرات!

نہال ممتاز
عالمی مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور دفاعی صنعتوں کے حصص میں غیر معمولی اضافہ محض اتفاق نہیں، بلکہ ماہرین اسے ایک بڑے جغرافیائی سیاسی تصادم کی دستک قرار دے رہے ہیں۔ ایک یورپی حالیہ رپورٹ کے مطابق، سرمایہ کاروں کا بدلتا ہوا رجحان اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ دنیا بھر کی منڈیاں "ہائبرڈ وار” اور تجارتی پابندیوں کے اثرات کو پہلے ہی بھانپ چکی ہیں۔ یہ اضطراب خاص طور پر یورپ اور ایشیا کے سنگم پر زیادہ محسوس کیا جا رہا ہے، جہاں روس-یوکرین کشیدگی کے بعد اب ایران- امریکہ ،اسرائیل اور چین-تائیوان جیسے محاذوں پر بھی خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ ان حالات میں عالمی معیشت ایک ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں سیاسی مفادات نے آزاد تجارت کے پرانے تصور کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اس عالمی صورتحال کے اثرات خطے کے دیگر ممالک اور بالخصوص پاکستان پر بھی گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا کے لیے یہ صورتحال دوہری تلوار کی مانند ہے؛ ایک طرف بھارت کی جارحانہ فوجی پالیسیاں اور لائن آف کنٹرول پر بڑھتا ہوا دباؤ علاقائی امن کو داؤ پر لگا رہا ہے، تو دوسری طرف عالمی منڈیوں میں پیٹرولیم مصنوعات اور سونے کی بڑھتی قیمتیں مقامی معیشتوں کا توازن بگاڑ رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی مالیاتی خسارے اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ان کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کا محتاط ہونا اور غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کا رخ موڑ لینا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ خطے کے دیگر ممالک جیسے بنگلہ دیش اور سری لنکا بھی عالمی سپلائی چین میں ممکنہ تعطل اور توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے اسی خوف کا شکار ہیں، کیونکہ جنگ کی صورت میں شپنگ کے اخراجات اور انشورنس پریمیم میں ہونے والا اضافہ ان کی برآمدات کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
منڈیوں کا یہ اشارہ صرف ہتھیاروں کی جنگ تک محدود نہیں، بلکہ معاشی ماہرین اسے "جیو-اکنامک کنفرنٹیشن” کا نام دے رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی تزویراتی (Strategic) پوزیشن اور سی پیک (CPEC) جیسے علاقائی ترقیاتی منصوبوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ جب عالمی طاقتیں اپنی ترجیحات دفاع کی طرف موڑتی ہیں، تو ترقی پذیر ممالک کے لیے ترقیاتی فنڈز اور معاشی امداد کے راستے مسدود ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ مالیاتی منڈیوں کا یہ حالیہ رجحان عالمی قیادت کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ تصادم کے بجائے سفارت کاری کی طرف لوٹیں، کیونکہ موجودہ عالمی معیشت اب کسی بڑے فوجی تصادم کے جھٹکے سہنے کی سکت نہیں رکھتی اور اس کا خمیازہ سب سے زیادہ پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو اپنی معاشی تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔



