سپیس سیکس: انسان یا نئی نوع کی افزائش کا ہولناک منصوبہ ( آخری قسط)

نہال ممتاز

خلا میں افزائشِ نسل کی یہ سنسنی خیز کہانی دراصل انسان کے "خدا” بننے کی تڑپ ہے، جہاں وہ گوشت پوست کے کمزور ڈھانچے کو جینیاتی فولاد میں بدل کر کائنات کو اپنی مٹھی میں کرنا چاہتا ہے۔ ​جس دن خلا میں پہلا "ڈیزائنر بچہ” آنکھ کھولے گا، اسی دن زمین کا پرانا انسان تاریخ کے قبرستان میں دفن ہونا شروع ہو جائے گا۔ وہ بچہ جس کی رگوں میں تابکاری جھیلنے والا ڈی این اے دوڑ رہا ہوگا، وہ ہمیں اپنا آباؤ اجداد نہیں بلکہ ایک گزرا ہوا "ناقص ماڈل” سمجھے گا۔

چلیں فرض کریں ایسا نہ بھی ہوا تب بھی یہاں اخلاقیات کا سوال اٹھتا ہے۔ اگر بچہ ماں کے جسم کے بجائے مشین میں پروان چڑھے، تو اس کی ماں کون ہوگی؟ انسان یا کمپنی؟ کیا یہ بچے خاندان کا حصہ ہوں گے یا کسی خلائی منصوبے کی “پروڈکٹ”؟

سب سے خوفناک سوال یہ ہے:کیا کسی کمپنی کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ انسان کے ڈی این اے کی مالک بن جائے؟اگر خلا میں پیدا ہونے والا بچہ کسی کمپنی کی ٹیکنالوجی سے زندہ ہے، تو کیا وہ آزاد انسان ہوگا یا ایک پیٹنٹ شدہ مخلوق؟

یہ اہم نکتہ "جینیاتی پیٹنٹنگ” کا ہے۔ بڑے کارپوریشنز یہ چاہتی ہیں کہ اگر وہ کسی انسان کے ڈی این اے میں تبدیلی کر کے اسے خلا کے قابل بناتی ہیں، تو اس انسان کے "کاپی رائٹس” اس کمپنی کے پاس ہونے چاہئیں۔ یہ ایک بھیانک قانونی بحث ہے۔

اس سے بچنے کے لیے عالمی سطح پر ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں جو خلا میں پیدا ہونے والے ہر فرد کو "کائناتی شہری” کا درجہ دیں گے، تاکہ وہ کسی کمپنی کا غلام بننے کے بجائے آزاد رہ سکے۔​یہ خلائی قوانین دراصل اس ڈر کا نتیجہ ہیں کہ کہیں ہم کائنات کو فتح کرنے کے چکر میں خود آپس میں نہ لڑ مریں۔ ستاروں کی اس جنگ اور جینیاتی افراتفری کو روکنے کے لیے زمین کے ایوانوں میں "اسپیس لاء” (خلائی قوانین) کی ایسی کھچڑی پک رہی ہے جو کسی جاسوسی فلم کے خفیہ مشن سے کم نہیں۔ اب تک خلا کو "سب کی ملکیت” سمجھا جاتا تھا، لیکن ماہرین ایسے ضابطے تیار کر رہے ہیں جو مریخ پر پیدا ہونے والے پہلے بچے کے پاسپورٹ سے لے کر اس کے ڈی این اے کے حقوق تک کا احاطہ کریں گے۔ یہ قوانین صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ ایک "کائناتی لگام” ہیں، تاکہ کوئی ایلون مسک جیسا ارب پتی یا کوئی طاقتور ملک خلا میں اپنی الگ "سپرمین فوج” تیار نہ کر سکے

یہ ضابطے کوشش کر رہے ہیں کہ زمین اور خلا کے درمیان ایک ایسا پل بنایا جائے جہاں ٹیکنالوجی تو ہو، مگر انسانیت اور اخلاقیات کا جنازہ نہ نکلے۔ لیکن سوال وہی ہے: جب مریخ کی بستیوں کے پاس اپنے ایٹمی ری ایکٹرز اور سپرمین جیسے سپاہی ہوں گے، تو کیا وہ زمین کے ان پرانے قوانین کو ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینک دیں گے؟

سب سے دلچسپ اور چٹخارے دار قانون "پلانیٹری پروٹیکشن” (سیاروی تحفظ) کا ہے، جس کے تحت کسی بھی انسان کو اجازت نہیں ہوگی کہ وہ دوسرے سیارے کے قدرتی ماحول کو اپنے جینیاتی کچرے یا زمین کے جراثیم سے آلودہ کرے۔ لیکن اس میں سنسنی خیز موڑ تب آتا ہے جب ہم "اسپیس کرائم” کی بات کرتے ہیں۔ اگر مریخ پر کوئی "سپر ہیومن” کسی دوسرے کا قتل کر دے، تو اس پر مقدمہ کہاں چلے گا؟ کیا زمین کی عدالتیں لاکھوں میل دور کسی میوٹنٹ کو سزا سنا سکیں گی؟ اسی لیے اب ایک "انٹرگلیکٹک کورٹ آف جسٹس” کی تجویز دی جا رہی ہے جو زمین کے بجائے خلا میں ہی انصاف کے کٹہرے لگائے گی۔

خلا میں تولیدی بائیو میڈیسن کی یہ پوری بحث ہمیں ایک ایسے نتیجے پر پہنچاتی ہے جہاں ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کائنات کی تسخیر کے لیے ہمیں اپنی انسانیت کا موجودہ ڈھانچہ قربان کرنا پڑے گا۔ ہم مریخ پر بستیاں تو بسا لیں گے، لیکن وہاں رہنے والے لوگ شاید وہ نہیں ہوں گے جو آج ہم ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button