سپیس سیکس: انسان یا نئی نوع کی افزائش کا ہولناک منصوبہ ( پارٹ 3)

نہال ممتاز

جب ہم "کائناتی جنسیات” اور اخلاقیات کی بات کرتے ہیں تو جان لیں کہ یہ ایک ایسا "جینیاتی جوا” ہے جس میں جیت گئے تو کائنات ہماری ہوگی، اور ہار گئے تو ہم اپنی ہی نسل کو ایک ایسی شکل دے بیٹھیں گے جسے شاید ہم خود بھی نہ پہچان پائیں کیونکہ وہاں پیدا ہونے والا انسان زمینی حالات سے بالکل مختلف حیاتیاتی خصوصیات کا حامل ہو سکتا ہے۔

اس خلائی مہم جوئی کا سب سے بڑا "ہیرو” یا شاید "ولن” مصنوعی کوکھ اور "اسپیس آئی وی ایف”ایک طرح کا مائکروسکوپک آپریشن ہوگا جو زمین سے لاکھوں میل دور روبوٹک ہاتھوں کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ 3D بائیو پرنٹنگ کا جادو بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ماہرین ایسی مشینیں تیار کر رہے ہیں جو خلا میں ہی انسانی ٹشوز اور یہاں تک کہ بیضہ دانی (Ovaries) کے مصنوعی حصے پرنٹ کر سکیں گی، تاکہ ہارمونز کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔ یہ سب سن کر ایسا لگتا ہے جیسے ہم قدرت کے نظام کو چیلنج کر کے ایک "سائبرگ نسل” کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔لیکن اس سنسنی خیز ٹیکنالوجی کے پیچھے ایک کڑوا سچ بھی چھپا ہے۔مصنوعی ماحول میں تولیدی عمل کو محفوظ بنانا اتنا بھی آسان نہیں ہو گا۔ خلا میں جنین (ایمبریو) کی نشوونما کے دوران ریڈی ایشن کے اثرات خلیوں کی ترتیب کو بگاڑ سکتے ہیں، جس سے پیدائشی نقائص کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

اگر ہم مصنوعی کوکھ اور جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے خلا میں بچے پیدا کرنے میں کامیاب ہو بھی گئے، تو وہ بچے زمین کے انسانوں سے بالکل مختلف ہوں گے۔ ان کی ہڈیاں ربڑ کی طرح لچکدار اور ان کا قد غیر معمولی طور پر لمبا ہو سکتا ہے، کیونکہ ان پر زمین کی کششِ ثقل کا پہرہ نہیں ہوگا۔ اس سنسنی خیز کھیل کا سب سے بڑا رسک یہ ہے کہ اگر ان جینیاتی تبدیلیوں میں ایک بھی غلطی ہوئی، تو ہم خلا میں سپر ہیرو کے بجائے ایسی "جینیاتی تبدیل شدہ مخلوق” (Mutants) پیدا کر بیٹھیں گے جن کا کنٹرول ہمارے ہاتھ میں نہیں رہے گا۔ یہ "سپر ہیومنز” زمین پر رہنے والے اپنے ہی آباؤ اجداد کو کمزور سمجھ کر ان سے نفرت بھی کر سکتے ہیں، جس سے ایک کائناتی جنگ (Intergalactic War) کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔

یہ ایک ایسا جیو پولیٹیکل اور شاید ایسٹرو پولیٹیکل ڈراؤنا خواب بن رہا ہے جو انسانیت کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتا ہے۔ تصور کریں کہ مریخ یا کسی دور دراز اسپیس اسٹیشن پر مقیم وہ "سپر ہیومنز”، جن کی ذہانت ہم سے کئی گنا زیادہ ہوگی اور جن کے جسم جینیاتی طور پر ری ڈیزائن کیے جا چکے ہوں گے، وہ زمین کو اپنی "ماں” سمجھنے کے بجائے اسے وسائل سے بھرا ہوا ایک "قدیم اور پسماندہ سیارہ” سمجھنے لگیں۔ یہیں سے اس سنسنی خیز تصادم کا آغاز ہوتا ہے جہاں زمین کے عام انسان اور خلا کے جینیاتی طور پر برتر انسان آمنے سامنے ہوں گے۔یہ سیاسی نقشہ کسی چٹخارے دار تھرلر کی طرح ہوگا: خلا میں رہنے والے یہ انسان زمین کی حکومتوں کے ٹیکسوں اور قوانین کو ماننے سے انکار کر دیں گے، کیونکہ ان کی بقا کا انحصار زمین کی آکسیجن پر نہیں بلکہ ان کی اپنی ٹیکنالوجی پر ہوگا۔ وہ اپنی ایک علیحدہ "اسپیس اسٹیٹ” کا اعلان کریں گے، جس کے پاس ایسے خطرناک ہتھیار ہو سکتے ہیں جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتےجیسے کہ خلا سے کسی بھی شہر پر چھوٹے سیارچوں (Asteroids) کی بارش کر دینا۔ زمین کی فوجیں، جو کششِ ثقل کی پابند ہیں، ان سپر ہیومنز کا مقابلہ کیسے کریں گی جو خلا کے اندھیروں میں چھپ کر وار کرنے کے عادی ہوں گے؟ یہ ایک ایسی جنگ ہوگی جس میں میدانِ جنگ زمین نہیں بلکہ پورا نظامِ شمسی ہوگا۔​سماجی طور پر یہ تقسیم ایک بدترین "جینیاتی نسل پرستی” کو جنم دے گی۔ زمین پر رہنے والے لوگ ان خلائی انسانوں کو "میسن” (Machines) یا "میوٹنٹس” کہہ کر پکاریں گے، جبکہ خلائی انسان ہمیں "زمینی کیڑے” سمجھ کر حقارت سے دیکھیں گے۔ زمین کا معاشی نظام مکمل طور پر تباہ ہو سکتا ہے، کیونکہ خلائی بستیوں کے پاس نایاب دھاتوں اور توانائی کے لامحدود ذخائر ہوں گے، جس سے وہ زمین کی معیشت کو اپنی انگلیوں پر نچائیں گے۔ ہم نے ستاروں کو چھونے کی جو تڑپ پالی تھی، وہ شاید ایک ایسی "کائناتی سرد جنگ” پر ختم ہو جہاں زمین محض ایک پسماندہ میوزیم بن کر رہ جائے اور انسانیت کا مستقبل ان ہاتھوں میں چلا جائے جنہیں ہم نے خود لیبارٹریوں میں تیار کیا تھا۔۔

جاری ہے۔۔

مزید خبریں

Back to top button