60 سال سے میتھ کی راہداری میں اٹکا صوفہ بالآخر نکل گیا
رائٹر، نہال ممتاز

ایک تنگ، ایل شیپ راہداری میں سے صوفہ کیسے گزارا جائے؟
سوال سننے میں اتنا عام ہے کہ روزمرہ زندگی کا حصہ لگتا ہے، مگر یہی سادہ سا سوال ریاضی کی دنیا میں ساٹھ برس تک ایک ڈراؤنا خواب بنا رہا۔کہانی 1966 سے شروع ہوتی ہے، جب مشہور ریاضی دان Leo Moser نے یہ مسئلہ پیش کیا۔ بظاہر یہ گھریلو مسئلہ تھا، مگر اس کے پیچھے جیومیٹری، کیلکولس اور آپٹیمائزیشن کی ایسی گہری دلدل چھپی تھی جس نے نسلوں کے ذہن الجھا ئے رکھے۔
مسئلہ صوفے کو موڑ سے گزارنے کا نہیں تھا، اصل سوال یہ تھا کہ سب سے بڑا ممکنہ صوفہ کون سا ہے جو اس موڑ کو عبور کر سکے۔یہاں مشکل یہ تھی کہ صوفہ ایک جامد شکل نہیں رہتا۔ حرکت کے دوران وہ ہر لمحہ نئی پوزیشن اختیار کرتا ہے—ہر زاویہ، ہر گھماؤ اور ہر سرکنا ریاضیاتی ثبوت مانگتا ہے۔ یہ صرف ایک شکل کا نہیں بلکہ حرکت کے پورے راستے کا مسئلہ تھا، جسے کمپیوٹر سے بھی brute force طریقے پر حل کرنا ممکن نہ تھا۔
دہائیوں تک ریاضی دانوں نے حدیں معلوم کیں، اندازے لگائے، کمپیوٹر ماڈلز بنائے، مگر حتمی جواب کسی کے پاس نہ تھا۔ اسی لیے اس پہیلی کو اکثر یوں بیان کیا جاتا رہا:
"سمجھانا آسان، حل کرنا تقریباً ناممکن”
یہی مسئلہ بعد میں Moving Sofa Problem کے نام سے مشہور ہوا اور یونیورسٹیوں، ریاضی کانفرنسز اور تحقیقی جرائد میں اس پر مسلسل بحث ہوتی رہی۔بالآخر ایک نوجوان دماغ نے وہ کر دکھایا جس کی امید مدھم ہو چکی تھی۔ جنوبی کوریا کے 31 سالہ ریاضی دان Baek Jin-eon نے ایک غیر روایتی، خم دار اور کٹی ہوئی شکل کا صوفہ تجویز کیا اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ وہ تنگ ایل شیپ راہداری میں کن کن زاویوں سے گھومے گا، کہاں سرکے گا اور کس مقام پر رک کر دوبارہ رخ بدلے گا۔
سب سے اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے ریاضی سے یہ ثابت کر دیا کہ اس شکل سے بڑا صوفہ ممکن ہی نہیں جو اس موڑ کو عبور کر سکے۔ یوں مسئلہ صرف “صوفہ گزارنے” کا نہیں رہا بلکہ سب سے بڑے ممکنہ صوفے کی حد بھی ہمیشہ کے لیے طے ہو گئی۔یوں سوال ختم ہوا، بحث بند ہوئی اور ساٹھ سالہ خاموشی ٹوٹ گئی۔
یہ محض ایک پہیلی کا حل نہیں تھا بلکہ خالص ریاضی کی ایک بڑی کامیابی تھی۔اسی لیے اسے 2025 کی نمایاں ترین Mathematical Breakthroughs میں شمار کیا گیا اور 2026 میں اسے عوام الناس کے سامنے پیش کر دیا گیا۔
اس حل کے عملی اثرات بھی ہیں،تنگ جگہوں میں روبوٹس کی حرکت، لاجسٹکس اور پیکنگ، آرکیٹیکچر اور حتیٰ کہ اے آئی موشن پلاننگ تک اس سے نئی راہیں کھلتی ہیں۔یوں ایک عام سا گھریلو منظر—راہداری میں صوفہ—ریاضی کی تاریخ میں ایک سنگِ میل بن گیا۔اور آخر میں سوال اب بھی باقی ہے:اگر آپ کے گھر کا صوفہ موڑ پر اٹک جائے، تو کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے ساٹھ سال کی ریاضی چھپی ہے؟



