ڈیجیٹل قیامت شروع: پراسرار چینی” ڈریگن” اسٹار لنک کو نگلنے کو تیار
نہال ممتاز
خلا کی لامتناہی وسعتوں میں اب خاموشی کا مطلب امن نہیں، بلکہ ایک ایسی ہولناک جنگ کی تیاری ہے جس کا شور زمین پر سنائی نہیں دے گا۔ چین کی عسکری لیبز سے نکلنے والے ‘TPG1000Cs’ نامی ڈریگن نے عالمی دفاعی ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ یہ محض ایک ہتھیار نہیں، بلکہ خلا کا وہ "ڈیجیٹل زہر” ہے جو کسی سیٹلائٹ کے پرخچے اڑائے بغیر اس کی روح یعنی اس کے الیکٹرانک دماغ کو فنا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
دنیا اب تک اینٹی سیٹلائٹ میزائلوں سے ڈرتی تھی، جن کا حملہ خلا میں ملبے کا ڈھیر لگا دیتا تھا، لیکن بیجنگ کے اس نئے مائیکروویو ہتھیار نے جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔ 20 گیگا واٹ کی وہ دہکتی ہوئی لہریں جب اس چار میٹر طویل جنریٹر سے نکلیں گی، تو خلا میں موجود ‘اسٹار لنک’ جیسے اربوں ڈالرز کے نیٹ ورکس تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائیں گے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی جدید سیٹلائٹ کو اندھا کرنے کے لیے صرف 1 گیگا واٹ ہی کافی ہوتا ہے، لیکن چین نے 20 گنا زیادہ طاقت پیدا کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ صرف نشانہ نہیں بنانا چاہتا، بلکہ وہ دشمن کے پورے مواصلاتی نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی سب سے سنسنی خیز بات اس کا "پراسرار” ہونا ہے۔ جب کسی سیٹلائٹ پر اس کا وار ہوگا، تو زمین پر بیٹھے آپریٹرز کو یہ بھی پتا نہیں چلے گا کہ ان پر حملہ ہوا ہے یا کوئی فنی خرابی پیش آئی ہے۔ یہ ایک ایسی غیر مرئی تلوار ہے جو بغیر خون بہائے دشمن کو اپاہج کر دیتی ہے۔ ایلون مسک کے وہ ہزاروں سیٹلائٹس جو یوکرین سے لے کر تائیوان تک انٹرنیٹ اور جاسوسی کا جال بنے ہوئے ہیں، اب ایک ایسے ڈریگن کے نشانے پر ہیں جس کے منہ سے نکلتی غیر مرئی آگ ان کے اندرونی سرکٹس کو لمحوں میں خاکستر کر سکتی ہے۔
تاہم، اس ” آتشی لہروں ” کا جواب دینے کے لیے امریکہ اور سپیس ایکس نے بھی خاموشی سے اپنی ‘ڈھال’ تیار کر لی ہے۔ پینٹاگون اب سیٹلائٹس کو ‘الیکٹرانک بکتر بند’ (Faraday Cage) پہنا رہا ہے تاکہ یہ مائیکروویو لہریں سرکٹس تک پہنچ ہی نہ سکیں۔ یہی نہیں، بلکہ ایلون مسک کی حکمتِ عملی "تعداد میں طاقت” ہے۔ اگر چین چند سو سیٹلائٹس کو مفلوج کر بھی دے، تو ہزاروں سیٹلائٹس کا پھیلا ہوا نیٹ ورک فوری طور پر اپنا ڈیٹا دوسرے راستوں پر منتقل کر دے گا۔ اب جنگ اس بات کی ہے کہ چین کی ‘تلوار’ تیز ہے یا امریکہ کی ‘ڈھال’ مضبوط!
اگر یہ خاموش جنگ چھڑ گئی، تو اس کے اثرات صرف خلا تک محدود نہیں رہیں گے۔ زمین پر بسنے والے عام انسان کے لیے یہ کسی قیامت سے کم نہ ہوگا۔ چشم زدن میں آپ کے موبائل فونز کے سگنلز غائب ہو سکتے ہیں، جی پی ایس (GPS) سسٹم جام ہونے سے ہوائی جہازوں کے راستے بھٹک سکتے ہیں اور عالمی بینکنگ نظام، جو سیٹلائٹ ٹائم اسٹیمپ پر چلتا ہے، پل بھر میں منجمد ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی تاریک دنیا کا نقشہ ہے جہاں انٹرنیٹ اور مواصلات کے بغیر انسانی زندگی پتھر کے دور میں واپس جا گرے گی۔
خلا اب صرف ستاروں کی آماجگاہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسا میدانِ جنگ بن چکا ہے جہاں اگلی عالمی جنگ کا فیصلہ بارود سے نہیں، بلکہ ان نادیدہ لہروں سے ہوگا جو پلک جھپکتے ہی پوری دنیا کو تاریکی اور خاموشی میں دھکیل سکتی ہیں۔ چین نے اپنی چال چل دی ہے، اور اب دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں سب سے بڑا ہتھیار وہ ہے جو نظر نہیں آتا۔
