"پیزا، گریپ سوڈا”: ایپسٹین فائلز میں بچوں کے جنسی استحصال کے خفیہ کوڈز!

نہال ممتاز
حال ہی میں امریکی محکمہ انصاف نے شفافیت کے قانون کے تحت جیفری ایپسٹین سے متعلق نئی دستاویزات جاری کیں۔ ان میں بعض مبینہ متاثرین کے ذریعے ایپسٹین کے خلاف اذیت اور تشدد کے الزامات کے ساتھ کئی بڑے ناموں کی بازگشت نے انٹرنیٹ پر تہلکہ مچا دیا ہے۔
سب سے زیادہ ہلچل Pizzagate سازشی تھیوری کے دوبارہ زندہ ہونے کی ہے۔ یہ وہی نظریہ ہے جو 2016 میں سامنے آیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ہلیری کلنٹن کی مہم کے ای میلز میں بچوں کے جنسی استحصال کا خفیہ نیٹ ورک چھپا ہوا ہے، اور واشنگٹن ڈی سی کے Comet Ping Pong پیزا ریسٹورنٹ کو اس سازش کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔
اگرچہ پیزاگیٹ کا نظریہ کبھی بھی عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوا، لیکن اب ایپسٹین کی فائلوں میں لفظ پیزا اور گریپ سوڈا کے بار بار آنے نے ایک بار پھر انٹرنیٹ پر سازشی شور اور سنسنی خیز قیاس آرائی پیدا کر دی ہے۔ رپورٹس اور ویڈیوز کے مطابق یہ تمام الفاظ ہیری فش نامی نیویارک کے یورولوجسٹ کی جانب سے آئے، جو ایپسٹین کے قریبی حلقے کا حصہ تھا۔ ایک ای میل میں لکھا گیا:
"پیزا اور انگور کے سوڈا کے لیے چلتے ہیں، کوئی اور اسے نہیں سمجھ سکتا”
بظاہر یہ معمولی سی دعوت لگتی ہے، لیکن سوشل میڈیا فورمز پر اسے خفیہ اور تاریک مقصد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ہیری فش نے ایپسٹین کو جنسی کمزوری (erectile dysfunction) پر مشورے بھی دیے، اور یہ تمام گفتگو فوراً سوشل میڈیا پر خوف اور قیاس آرائی کا مواد بن گئی۔
انٹرنیٹ پر موجود رپورٹس اور سازشی نظریات، خاص طور پر Pizzagate اور QAnon سے وابستہ، دعویٰ کرتے ہیں کہ ایپسٹین اور اس کے بااثر ساتھیوں کے درمیان ہونے والی ای میلز یا گفتگو میں "پیزا” محض کھانے کے لیے استعمال نہیں ہوتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لفظ "چائلڈ پورنوگرافی” یا بچوں کی جنسی اسمگلنگ کے لیے خفیہ کوڈ تھا۔ اس تھیوری کے مطابق، "Cheese Pizza” کے حروفِ تہجی (C.P) Child Pornography کے مخفف کے طور پر استعمال کیے جاتے تھے۔
اسی تناظر میں "پیزا پارٹی” سے مراد وہ محفلیں لی جاتی ہیں جہاں مبینہ طور پر بچوں کو جنسی استحصال کے لیے لایا جاتا تھا۔ ایپسٹین کے نجی جزیرے (Little St. James) اور دیگر مقامات پر ہونے والی ان پارٹیز میں دنیا کے کئی طاقتور اور بااثر افراد کی شرکت کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔
حالیہ رپورٹس اور انٹرنیٹ بلاگز میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایپسٹین سے متعلقہ دستاویزات یا "ایپسٹین لسٹ” میں پیزا کا لفظ تقریباً 900 بار آیا ہے۔ ایک دستاویز میں لکھا گیا:
"Butt cake sounds great but I need pizza”
سازشی نظریہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک ارب پتی شخص کی فائلوں میں پیزا کا اتنی بڑی تعداد میں ذکر عام بات نہیں، بلکہ یہ کسی بڑے اور خفیہ جنسی اسمگلنگ نیٹ ورک کی طرف اشارہ ہے۔
ایپسٹین کی فائلیں صرف یہی نہیں بتاتیں۔ ہر صفحے پر چھپی ہوئی غیر معمولی اور مبہم اشیاء، جیسے Bionic Dick، Pop-Tarts، Ding-Dongs، اور چینی بسکٹ، قاری کو حیران کر دیتی ہیں۔ سازشی نظریہ ساز یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ کھانے کی اشیا جیسے "Hot dog” نوجوان لڑکوں، "پیزا” نابالغ لڑکیوں، "Cheese” چھوٹے بچوں، "گریپ سوڈا” ریپ، اور "آئسکریم یا”وال نٹ”مرد جنسی ورکرز کے لیے خفیہ الفاظ کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔
بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ فائلز میں غلاف کعبہ جیسے مقدس کپڑوں کے ٹکڑوں سے لے کر یہودی مذہبی آلے Tefillin کی موجودگی نے اسے مزید مبہم اور خفیہ مفہوم کے طور پر اجاگر کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایپسٹین کے جرائم عدالتی طور پر ثابت شدہ ہیں؛ نابالغ لڑکیوں کے جنسی استحصال اور اسمگلنگ کے الزامات میں وہ قصوروار تھا۔ جبکہ Podesta کے حوالے، پیزا، گریپ سوڈا اور دیگر الفاظ کے مبہم استعمال زیادہ تر سازشی قیاس ہیں۔ پھر بھی، یہ سب مل کر ایک ایسی سنسنی خیز کہانی بناتے ہیں جو دنیا کے طاقتور، بااثر اور خفیہ حلقوں کے بارے میں بڑے سوالات کھڑے کرتی ہےجن کے جواب ابھی تک حل طلب ہیں۔
