خلا میں ڈاگ فائٹ؟ چین سے مغربی اعصاب "بے چین” ،پاکستان ہوشیار باش

نہال ممتاز
خلا اب خوابوں اور سائنسی تجربات کی جگہ نہیں رہا، بلکہ طاقت کے مظاہرے کی نئی سرحد بن چکا ہے۔ اسی تناظر میں جرمنی کا یہ الزام کہ چین یورپی یونین کے خلائی اثاثوں کے خلاف خلا میں ’’ڈاگ فائٹ‘‘ جیسی سرگرمیاں کر رہا ہے، جتنا سنسنی خیز ہے، اتنا ہی سوال طلب بھی۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی طاقت ابھرتی ہے، مغرب سب سے پہلے اسے خطرے کی شکل میں پیش کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خلا کی عسکری دوڑ کسی ایک ملک کی ایجاد نہیں نہ ہی چین نے اس میں پہل کی ہے۔ امریکہ برسوں پہلے اسپیس فورس کے ذریعے خلا کو باقاعدہ فوجی محاذ بنا چکا ہے۔
یورپ خود اربوں یورو خلائی دفاع پر خرچ کر رہا ہے، جبکہ روس پر اینٹی سیٹلائٹ جوہری صلاحیتیں تعینات کرنے کے الزامات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں چین کی جانب سے اپنے سیٹلائٹس کو متحرک اور جدید انداز میں استعمال کرنا اگر جارحیت ہے، تو پھر باقی سب کیا ہیں؟
’’ڈاگ فائٹ‘‘ جیسی اصطلاحات زیادہ تر تکنیکی حقیقت نہیں بلکہ سیاسی بیانیہ ہوتی ہیں۔ جدید سیٹلائٹس کا مدار میں حرکت کرنا، اپنی پوزیشن بدلنا یا دوسرے سیٹلائٹس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا آج کے خلائی نظام کا معمول ہے۔ یہی کام مغربی ممالک کریں تو اسے دفاع کہا جاتا ہے، مگر چین کرے تو وہ بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ یہ دوہرا معیار اصل مسئلہ ہے۔
چین نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ خلا میں مکمل غیر فعالیت کا قائل ہے۔ اس کا مؤقف واضح ہے: خلا پرامن ہونا چاہیے، مگر اپنے اثاثوں کے دفاع کا حق ہر ملک کو حاصل ہے۔ جب یورپی سیٹلائٹس خود نگرانی، انٹیلی جنس اور عسکری رابطوں کے لیے استعمال ہو رہے ہوں تو یہ توقع رکھنا کہ باقی طاقتیں خاموش تماشائی بنی رہیں، ایک غیر حقیقی سوچ ہے۔
اصل خوف چین کی سرگرمیوں سے زیادہ مغرب کی گرتی ہوئی اجارہ داری کا ہے۔
یورپ اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ عالمی سکیورٹی کے اصول اکیلا طے کرے۔ چین کی تکنیکی خودمختاری، اس کی تیز رفتار ترقی اور مغربی بلاک سے آزاد پالیسی یورپ کے لیے ایک نفسیاتی دھچکا ہے، جسے وہ سکیورٹی خطرے کا نام دے رہا ہے۔
بات کی جائے اگرپاکستان اور خطے کی تو یہ بحث محض عالمی سیاست نہیں بلکہ مستقبل کی سمت کا اشارہ ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ پہلے ہی اسٹریٹجک اور تکنیکی شراکت داری رکھتا ہے۔ چین کے خلاف بڑھتا ہوا دباؤ دراصل ان تمام ممالک کے لیے وارننگ ہے جو مغربی بلاک سے باہر اپنی راہ بنانا چاہتے ہیں۔ آنے والے وقت میں دباؤ زمین پر کم اور خلا میں زیادہ ہوگا۔
پاکستان کے لیے اس صورتحال میں موقع بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ چین کے ساتھ خلائی تعاون پاکستان کو سیٹلائٹ کمیونیکیشن، ڈیٹا سکیورٹی اور نگرانی کے شعبوں میں خود انحصاری کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں بھارت اپنی اینٹی سیٹلائٹ صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کر چکا ہے، پاکستان کے پاس یہ گنجائش نہیں کہ وہ خلا کو نظر انداز کرے۔
جنوبی ایشیا میں اگر خلائی عسکری مقابلہ شدت اختیار کرتا ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان عدم توازن کی صورت میں نکلے گا۔ چین کو عالمی سطح پر محدود کرنے کی کوششیں دراصل خطے میں نئے دباؤ پیدا کریں گی، جن کے اثرات پاکستان تک پہنچیں گے۔ اس لیے پاکستان کے لیے دانش مندی یہی ہے کہ وہ جذباتی بیانیوں کے بجائے ٹیکنالوجی اور توازنِ طاقت کو سامنے رکھ کر فیصلے کرے۔
سوال یہ نہیں کہ چین خلا میں کیا کر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا مغرب اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے کہ خلا اب کسی ایک کی جاگیر نہیں۔ جب ہر بڑی طاقت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے خلا کو عسکری میدان بنا رہی ہو، تو چین کو تنہا کٹہرے میں کھڑا کرنا ناانصافی ہے۔
پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے اصل "ہوشیارباشی "یہی ہے کہ مستقبل کی جنگیں سرحدوں پر ہی نہیں بلکہ مدار میں بھی لڑی جائیں گی اور اس حقیقت سے انکار سب سے بڑی اسٹریٹجک غلطی ہوگا۔
