COVID کے بعد نپاہ: دنیا ایک اور وبا کے دہانے پر ؟

نہال ممتاز
نپاہ وائرس کا ذکر سنتے ہی ذہن میں COVID-19 کا خوف ابھرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ نپاہ ایک الگ نوعیت کاخاموش مگر کہیں زیادہ مہلک خطرہ ہے۔ یہ وائرس پہلی بار 1998
میں ملائیشیا میں سامنے آیا اور جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا میں وقفے وقفے سے پھیلتا رہا ہے۔ حال ہی میں ہندوستان کے مغربی بنگال میں نئے کیسز نے یہ خدشہ دوبارہ اجاگر کیا ہے کہ نپاہ ایک بار پھر ہمارے قریب خطرے کی گھنٹی بجا سکتا ہے، کیونکہ انسانی نقل و حرکت اور سرحدی روابط وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات بڑھا دیتے ہیں۔
نپاہ وائرس کا قدرتی ذخیرہ پھل کھانے والی چمگادڑیں ہیں، خاص طور پر Pteropus نسل۔ یہ آلودہ پھل، کھجور کے رس یا متاثرہ انسان و جانور سے قریبی رابطے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ جنگلات کی کٹائی، شہری پھیلاؤ اور زرعی سرگرمیوں نے انسانوں اور جنگلی حیات کو غیر فطری طور پر قریب لا دیا ہے، جس سے وائرس انسانوں تک پہنچنے کا موقع پاتا ہے۔
یہ وائرس اپنی بلند شرحِ اموات کی وجہ سے خطرناک ہے۔ بعض کیسز میں ہر دس میں سے سات مریض جان سے گئے، اور چمگادڑ سے براہِ راست منتقل ہونے والے کیسز میں یہ شرح 90 فیصد تک رہی۔ ابتدا میں علامات فلو جیسی ہوتی ہیں، مگر چند دنوں میں بیماری دماغ کی سوزش، سانس کی رکاوٹ اور کوما تک جا سکتی ہے۔ یہی خاموش آغاز اسے جان لیوا بناتا ہے، کیونکہ تشخیص میں معمولی تاخیر بھی جان کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔
ہسپتال بھی خطرے کے اہم مراکز ہیں، جہاں صحت کے کارکن، نرسیں اور تیماردار متاثر ہو سکتے ہیں۔ کمزور انفیکشن کنٹرول، حفاظتی سامان کی کمی اور محدود تشخیصی سہولیات وائرس کو خاموشی سے پھیلنے کا موقع دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان جیسے ہمسایہ ممالک میں نپاہ کے بڑھتے کیسز ہمارے لیے بھی براہِ راست خطرہ ہیں۔
نپاہ COVID-19 کی طرح ہوا کے ذریعے نہیں پھیلتا بلکہ قریبی جسمانی رابطے اور رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، اور عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس کا اوسط پھیلاؤ ایک سے کم ہے۔ مگر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ وائرس ارتقا پذیر ہیں، اور اگر نپاہ میں ایسی تبدیلی آ گئی جو اسے زیادہ پھیلنے کے قابل بنا دے، تو صورتحال تیزی سے بدل سکتی ہے۔
فی الحال نپاہ کے لیے نہ کوئی منظور شدہ ویکسین موجود ہے اور نہ کوئی مؤثر علاج۔ علاج صرف معاون نگہداشت پر منحصر ہے۔ اصل دفاع بروقت تشخیص، مریض کی فوری تنہائی اور ہسپتالوں میں سخت حفاظتی اقدامات ہیں۔ ماہرین ’’ون ہیلتھ‘‘ کے نقطۂ نظر پر زور دیتے ہیں، جہاں انسان، جانور اور ماحول کو ایک مربوط نظام سمجھا جائے۔ نپاہ کا اب تک عالمی وبا نہ بننا خوش قسمتی ہے، مگر ہندوستان میں بڑھتے کیسز اور سرحدی قربت یاد دلاتے ہیں کہ خطرہ ہمارے دروازے تک پہنچ چکا ہے، اور ہر تاخیر کی قیمت بھاری ہو سکتی ہے۔
