مدر آف آل ڈیلز: بھارت کی اقتصادی چالیں، پاکستان کے لیے بڑا الرٹ

نہال ممتاز
حال ہی میں یورپی یونین اور بھارت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط ایک عالمی اقتصادی موڑ ہیں۔ یہ معاہدہ بھارت کی بڑھتی ہوئی اقتصادی خودمختاری کی علامت ہے اور پاکستان کے لیے چیلنجز پیدا کرتا ہے، جب کہ ہماری معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔
معاہدے کے تحت یورپی مصنوعات پر بھارت میں محصولات میں زبردست کمی کی گئی ہے، خاص طور پر مشینری، کیمیکلز اور فارماسیوٹیکلز میں، جبکہ زراعت جیسے حساس شعبے مستثنیٰ رکھے گئے ہیں۔ بھارت نے اپنی “ریڈ لائن” قائم کی، اور یورپی یونین نے اسے قبول کر کے اپنی تجارتی حکمت عملی کے مطابق سمجھوتہ کیا۔
پاکستان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت عالمی منڈیوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کے برآمداتی شعبے محدود مواقع میں پھنسے رہ سکتے ہیں۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات بھارت کی سستی اور کم محصولات والی مصنوعات کے مقابلے میں کمزور ہو سکتی ہیں۔
یہ معاہدہ امریکی ٹیرف دباؤ کے پیش نظر ہوا، جس سے بھارت نے عالمی تجارت میں فائدہ اٹھایا، جبکہ پاکستان اس قسم کی عالمی تجارتی چالوں میں پیچھے ہے۔ یورپی یونین بھارت کو 96 فیصد مصنوعات پر محصولات کم کر کے اربوں یورو کی بچت دے رہا ہے، جبکہ پاکستان اپنی برآمدات کے لیے ایسے مواقع نہیں پا رہا۔
معاہدے میں ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کو بھی شامل کیا گیا ہے، جو بھارت کی عالمی سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک پوزیشن کو مضبوط کرتا ہے۔ دفاعی اور تکنیکی تبادلے سے بھارت کو اقتصادی اور اسٹریٹجک فائدہ مل رہا ہے، جبکہ پاکستان کی معیشت اور خطے میں اس کی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک واضح اقتصادی انتباہ ہے۔ عالمی تجارتی تعلقات میں مؤثر حکمت عملی، سیاسی دباؤ اور مارکیٹ کی توسیع ضروری ہیں۔ پاکستان کو اپنی برآمدات کی پالیسیوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا، علاقائی اور عالمی مارکیٹ تک رسائی بڑھانا اور تجارتی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت پاکستان کے لیے نہ صرف معاشی بلکہ خطے میں سیاسی چیلنج بھی ہے۔
