اتفاق یا سازشی کوڈ: ایران کی ہلاکتوں اور ہر بڑے سانحے سے جڑا خون آشام نمبر” 3117”

نہال ممتاز
ایران میں حالیہ مظاہروں کے بعد جب ہلاکتوں کے سرکاری اعداد و شمار جاری کیے گئے تو توجہ لاشوں سے زیادہ ایک عدد پر مرکوز ہو گئی۔ اعلان ہوا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3117 ہے۔ بظاہر یہ محض ایک رپورٹنگ فگر تھا، مگر اس بار یہ عدد ایک معمہ بن کر سامنے آیا ہے۔
وجہ صاف ہے۔ 3117 وہی عدد ہے جو اس سے پہلے کورونا وبا کے دنوں میں ہلاکتوں کی رپورٹس میں سامنے آیا، پھر زہریلی شراب سے ہونے والی اموات میں بھی یہی نمبر دہرایا گیا، اور لبنان-اسرائیل تنازع میں بھی ہلاکتوں کا یہی فگر رپورٹ ہوا۔ اب ایران کے مظاہروں میں ایک بار پھر یہی عدد دیکھ کر یہ سوال شدت سے اٹھا کہ ہر غیر معمولی سانحے میں یہی نمبر کیوں لوٹ آتا ہے؟
اعداد و شمار کے بنیادی اصول یہ کہتے ہیں کہ مختلف نوعیت کے بحرانوں،جیسے وبا، جنگ، داخلی کریک ڈاؤن یا بڑے سانحات میں ہلاکتوں کی تعداد کا بالکل ایک جیسا ہونا شماریاتی طور پر نہایت بعید ہے۔
آبادی بدل جائے، وقت بدل جائے، شدت اور جغرافیہ بدل جائے، مگر عدد نہ بدلے، تو یہ محض اتفاق نہیں بلکہ کسی سوچے سمجھے منصوبےکا تاثر دیتا ہے۔
ایران میں اس عدد نے صرف سیاسی نہیں بلکہ مذہبی سطح پر بھی ہلچل مچائی ہے۔ مذہبی ذہن نے فوراً اسے قرآن کی عددی ترتیب سے جوڑنا شروع کر دیا۔ قرآن کی 17 نمبر سورہ الاسراء کی آیت 31 میں ناحق خون بہانے کو “عظیم گناہ” قرار دیا گیا ہے، جبکہ 31 نمبرسورہ لقمان کی آیت 17 میں ظلم اور مصیبت کے مقابل صبر، استقامت اور اخلاقی مزاحمت کی تلقین کی گئی ہے۔ 17 اور 31 کی یہ عددی مماثلت،چاہے سائنسی بنیاد نہ رکھتی ہو،ایرانی معاشرے جیسے مذہبی سیاق میں محض اتفاق نہیں سمجھی جاتی۔ یہاں اعداد کو صرف گنا نہیں جاتا، بلکہ معنی کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔
اسی طرح ابجد کے حوالے سے بھی 3117 پر بحث جاری ہے۔ اگرچہ ابجدِ کبیر میں اس عدد سے کوئی واضح لفظ اخذ نہیں ہوتا، مگر 3+1+1+7 کو 12 بنایا گیا، جو شیعہ عقیدے میں بارہ اماموں کی علامت ہے، جبکہ 17 کو نماز کی رکعات سے جوڑا گیا۔ یہ تشریحات سائنسی نہیں، مگر یہ ضرور ظاہر کرتی ہیں کہ جب ریاست اعداد جاری کرتی ہے تو وہ محض رپورٹس نہیں بلکہ علامات بھی تخلیق کر دیتی ہے، خاص طور پر ایسے معاشروں میں جہاں مذہب اجتماعی شعور کا حصہ ہو۔
تاہم اس عدد کا سب سے خطرناک پہلو مذہبی نہیں بلکہ نفسیاتی ہے۔ ابلاغ اور سماجی نفسیات کا ایک تسلیم شدہ اصول ہے کہ کسی عدد کو بار بار دہرانا عوامی ذہن میں حساسیت کو کم کر دیتا ہے۔ جس عدد کو لوگ پہلے ہی کسی بڑے سانحے سے جوڑ چکے ہوں، وہ دوبارہ سن کر چونکنے کے بجائے قبول کر لیتے ہیں۔ یوں موت ایک نئے المیے کے طور پر نہیں بلکہ پچھلے سانحات کے تسلسل کے طور پر محسوس ہونے لگتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی بیانیہ مضبوط ہو جاتا ہے۔
3117 اسی تناظر میں ایک “محفوظ عدد” دکھائی دیتا ہے۔ نہ اتنا بڑا کہ فوری عالمی دباؤ پیدا کرے، نہ اتنا کم کہ ساکھ کو نقصان پہنچائے۔ ایسا عدد جو پہلے آزمودہ ہو، ردعمل کے لحاظ سے قابلِ پیش گوئی ہو اور جسے بریفنگ ٹیبل پر دفاع کے قابل سمجھا جائے۔ اسی لیے ناقدین کے نزدیک یہ عدد گلی کی حقیقت سے زیادہ فائلوں کی منطق سے نکلا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس عدد نے اصل سوال کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ بحث یہ ہونی چاہیے تھی کہ مظاہرین کیوں مارے گئے، کن حالات میں مارے گئے اور ذمہ دار کون ہے، مگر بحث یہ بن گئی کہ 3117 کیوں بار بار آ رہا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ توجہ کو موڑنے کی ایک مؤثر تکنیک ہے،جہاں خون پر بات کرنے کے بجائے حساب میں الجھا دیا جاتا ہے۔
اگر 3117 واقعی درست ہے تو اسے شفاف شواہد کے ساتھ ثابت ہونا چاہیے، اور اگر یہ من گھڑت ہے تو یہ محض غلط بیانی نہیں بلکہ ایک منظم جھوٹ ہے جس کی تیز گونج میں سچ کی آواز کو چھپایا جا رہا ہے۔
