جیسی کرنی ویسی بھرنی،صہیونیت یہودیوں کی سب سے بڑی دشمن

تحریر:نہال معظم

​تاریخ کے آئینے میں جب ہم مکافاتِ عمل کے قانون پر غور کرتے ہیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ دوسروں کے لیے کھودے گئے گڑھے میں اکثر انسان خود ہی گر جاتا ہے اور آج کی عالمی صورتحال صیہونی ایجنڈے کے گرد کچھ اسی طرح گھومتی دکھائی دیتی ہے۔ عشروں سے جس طرح عالم اسلام کو تقسیم کرنے، مسلمان ملکوں کو آپس میں لڑانے اور مسلم معاشروں میں انتشار پھیلانے کے لیے پسِ پردہ سازشیں کی گئیں، اس کا مقصد صرف ایک مخصوص سیاسی نظریے کی بالادستی قائم کرنا تھا۔ ماہرینِ سیاست اور تاریخ دان اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ داعش، القاعدہ اور دیگر شدت پسند نام نہاد مسلم تنظیموں کی جڑیں کہیں نہ کہیں انہی قوتوں سے جا ملتی ہیں جنہوں نے اسلام کے پرامن چہرے کو مسخ کرنے کے لیے ان انتہا پسند گروہوں کی آبیاری کی یا انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ان سازشوں کا مقصد یہ تھا کہ دنیا بھر کی نظروں میں عام اور سادہ مزاج مسلمان کو ایک دہشت گرد اور خطرہ بنا کر پیش کیا جائے تاکہ ان کی اخلاقی اور مذہبی پہچان کو سیاسی نفرت کی بھینٹ چڑھا دیا جائے۔ لیکن قدرت کا انصاف دیکھیے کہ آج وہی آگ پلٹ کر خود ان کے اپنے گھر تک پہنچ چکی ہے اور صیہونیت کی لگائی ہوئی یہ چنگاریاں اب خود یہودی کمیونٹی کے لیے وبالِ جان بن گئی ہیں۔

​حالیہ برسوں میں یورپ کے حالات اس ‘جیسی کرنی ویسی بھرنی’ کا منہ بولتا ثبوت بن کر ابھرے ہیں۔ جرمنی کے شہر میونخ میں یہودی برادری کو لائیو گولیاں بھیج کر دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور پیرس جیسے شہروں میں چاقو بردار حملہ آور سرعام یہودی عبادت گزاروں کا پیچھا کر رہے ہیں۔ لندن اور برسلز میں یہودی اداروں اور ایمبولینس سروسز کو آگ لگائے جانے کے واقعات اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہے۔ یہ وہی نفرت ہے جو کبھی دوسروں کے لیے ایجاد کی گئی تھی، مگر اب اس نے خود یہودی برادری کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ ہولوکاسٹ کے اس سیاہ دور کے بعد، جس میں انسانیت سسک اٹھی تھی، یہ عہد کیا گیا تھا کہ اب دوبارہ کبھی ایسا نہیں ہوگا، لیکن صیہونی تحریک نے اپنے سیاسی و عسکری عزائم کی خاطر اس مظلومیت کے تاثر کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔ آج جب دنیا بھر کی سڑکوں پر صیہونی ریاست کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج ہوتا ہے تو اس کی لپیٹ میں وہ عام یہودی بھی آ رہے ہیں جن کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔ جس طرح مسلمانوں کو انتہا پسند تنظیموں کے کرتوتوں کی سزا بھگتنی پڑی اور پوری دنیا میں انہیں شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا، آج بالکل وہی حال صیہونی نظریے کی وجہ سے دنیا بھر میں بسنے والے یہودیوں کا ہو گیا ہے۔

​آج صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ یورپ کی یونیورسٹیوں اور گلیوں میں یہودی نوجوان اپنی مذہبی شناخت، اپنی ٹوپی یا اپنا مذہبی نشان ظاہر کرنے سے ڈرتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے نائن الیون کے بعد مسلمان اپنی شناخت چھپانے پر مجبور ہوئے تھے۔ یہ مکافاتِ عمل کی بدترین مثال ہے کہ جو نفرت مسلمانوں کے خلاف بوئی گئی تھی، وہ اب ایک ایسی لہر بن کر ابھری ہے جس نے خود صیہونیوں کے اپنے حامیوں کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔ صیہونیت نے دراصل یہودیت کے نام پر جو سیاسی کھیل کھیلا اور مسلم دنیا کو عدم استحکام کا شکار کر کے وہاں کی نسلوں کو برباد کیا، آج وہی عدم استحکام اور خوف خود ان کے اپنے دروازوں پر دستک دے رہا ہے۔ صیہونیت اپنی تمام تر سازشوں اور شدت پسندی کے باعث خود یہودیت کی سب سے بڑی دشمن بن کر سامنے آئی ہے، کیونکہ اس کے بوئے ہوئے کانٹے آج خود انہی کے پیروں کو لہولہان کر رہے ہیں۔ جب تک دوسروں کے خلاف سازشوں کا یہ سلسلہ بند نہیں ہوتا اور انسانیت کو سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھانا نہیں چھوڑا جاتا، تب تک نفرت کی یہ آگ ان ہاتھوں کو بھی جلاتی رہے گی جنہوں نے اسے ہوا دی تھی۔

مزید خبریں

Back to top button