عورت کا عورت پر ریپ کیس: ہم کس گلی جا رہے ہیں؟

نہال معظم:
سوشل میڈیا کے اس دجالی دور میں، جہاں ایک کلک پر سچ اور جھوٹ کی تمیز مٹ جاتی ہے، پاکستان جیسے معاشرے میں ایسی شرمناک کہانیاں ہر روز جنم لے رہی ہیں جو ہماری اخلاقی اقدار اورقومی وقار کو گہری چوٹ پہنچا رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں پشتون ایکٹوسٹ حیات پرگل کی جانب سے بنوں ٹاؤن شپ میں "لڑکوں کی منڈیاں” لگنے کے سنسنی خیز دعووں نے پوری دنیا میں ہمیں تماشا بنا دیا، مگر افسوس کہ آج تک کسی سرکاری ادارے نے نا تو ان الزامات کی انکوائری کی اور نا ہی اس سنگین الزام پر کوئی تادیبی انکوائری، شاید اسی لیے ایسے واقعات کو شہ مل رہی ہے کہ اب گوجرانوالہ سے ایک ایسا ہی عجیب و غریب کیس سامنے آیا ہے جس نے ہمیں ایک دوسرے سے آنکھیں چرانے پر مجبور کر دیا یے۔ ایک لیڈی پولیس کانسٹیبل، جو خود قانون کی محافظ ہے، اپنی ہی دیرینہ سہیلی اور معروف ٹک ٹاکر ،نام نہاد سنگر ثمینہ پری زاد پر یہ سنگین الزام لگاتی ہے کہ اس نے اسے نشہ آور ادویات دے کر قید رکھا گیا اور آہنی اوزاروں سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کیس میں اینٹی ریپ ایکٹ کی دفعات تو لگی ہیں لیکن قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایف آئی آر میں مدعیہ کی تمام تفصیلات بھی واضح کر دی گئیں، جو کہ بذاتِ خود ایک غیر قانونی عمل ہے۔
خیر ان دو بیبیوں کی دوستی کا قصہ 2012 میں ایک کمپیوٹر کورس کلاس سے شروع ہوا تھا، مگر حالیہ دنوں میں یہ دوستی دشمنی میں بدلتی نظر آتی ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ کانسٹیبل موصوفہ نے نوکری سے غیر اعلانیہ غیرحاضری پر اس ڈرامے کا سہارا لیا تاکہ محکمانہ انکوائری سے بچ سکیں، مگر اس چکر میں اس نے اپنے کردار کے ساتھ پورے نظام کو بھی داؤ پر لگا دیا۔ جب سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی تو منظر ہی بدلا ہوا تھا؛ وہاں یہ اور اس کی ایک اور بہن یعنی دو "مظلوم” خواتین ایک شخص پر تشدد کرتی دکھائی دے رہی تھیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیس جیسی فورس سے تعلق رکھنے والی اتنی تگڑی خواتین کیسے اتنی آسانی سے حبسِ بے جا یا ریپ کا شکار ہو سکتی ہیں؟ یہاں پاکستان کے سائبر قوانین (PECA) کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ جھوٹے الزامات اور بغیر تصدیق کے خبریں پھیلانا نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ قانونی طور پر بھی قابلِ سزا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کو چاہیے کہ وہ ایسے کیسز میں سنسنی پھیلانے والوں اور جھوٹی کہانیاں گھڑنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے تاکہ آزادیِ اظہار کے نام پر ملک کی عزت سے نہ کھیلا جا سکے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ سول سوسائٹی اور سوشل میڈیا صارفین سچ کی تہہ تک پہنچنے کے بجائے وائرل ہونے کی دوڑ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں ایک مومن کبھی بھی بغیر تحقیق کے بات آگے نہیں بڑھاتا، مگر ہم اس سنہری اصول کو فراموش کر چکے ہیں۔ جب تک ریاست کے مقتدر حلقے ایسے ڈرامہ رچانے والے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لاتے اور عوام اپنی ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیتے، جھوٹ کا یہ بازار یونہی گرم رہے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ جب تک سچائی اپنے جوتے پہن کر تیار ہوتی ہے، جھوٹ پورے شہر کا چکر لگا کر واپس بھی آ چکا ہوتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اور ہر وائرل کہانی سچی نہیں ہوتی؛ اگر ہم نے آج اپنی ذمہ داری نہ پہچانی تو یہ جھوٹی کہانیاں ملک کی جگ ہنسائی کے ساتھ ساتھ ہماری آنے والی نسلوں کے ضمیر کو بھی مسموم کر دیں گی۔



