پاکستان میں چھوکرا منڈیاں: سنگین الزام یا بھیانک سچائی؟

نہال معظم:
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کچھ ویڈیوز نے خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں کو ایک سنگین الزام کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔ ان ویڈیوز میں کم عمر لڑکوں کو میک اپ کے ساتھ محفلوں میں کھڑا دکھا کر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہیں لاکھوں روپے کے عوض خریدا اور فروخت کیا جاتا ہے۔ یہ بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب سماجی کارکن حیات پریغال نے دعویٰ کیا کہ بنوں ٹاؤن شپ سمیت مختلف علاقوں میں لڑکوں کو خریداروں کے سامنے پیش کرنے کی باقاعدہ "منڈیاں” لگتی ہیں۔
ان الزامات کی سنگینی اپنی جگہ، مگر معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے جذباتی بیانیوں کے بجائے حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ وائرل ہونے والی تمام ویڈیوز ایک ہی نوعیت کی نہیں ہیں۔ ان میں سے کئی ویڈیوز دراصل مقامی شادیوں یا مردانہ محفلوں کے رقص کے پروگراموں کی ہیں، جہاں لڑکوں کا رقص ایک پرانی، اگرچہ سماجی و اخلاقی طور پر متنازع روایت رہی ہے۔ اسی طرح، کچھ ویڈیوز محض تفریحی ماڈلنگ مواد پر مشتمل ہیں جنہیں سوشل میڈیا کے سنسنی خیز ماحول میں سیاق و سباق سے ہٹا کر "منڈی” کا نام دے دیا گیا۔
تاہم، اس بحث کو یکسر مسترد کرنا بھی ممکن نہیں۔ جنوبی ایشیا اور سرحدی علاقوں میں غریب بچوں کے استحصال کی تاریخ موجود ہے۔ ماہرین اسے وسطی ایشیا اور افغانستان میں پائے جانے والے "بچہ بازی” کے بدنامِ زمانہ عمل سے جوڑتے ہیں، جہاں کم عمر لڑکوں کو محفلوں اور جنسی استحصال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سرحدی روابط کے باعث اس روایت کے اثرات پاکستان کے قبائلی اور سرحدی علاقوں میں بھی کبھی کبھار رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسی باقاعدہ "منڈیاں” وجود رکھتی ہیں؟ اب تک نہ کسی سرکاری تحقیق، نہ پولیس کی جامع رپورٹ اور نہ ہی کسی قومی میڈیا ادارے نے ان دعووں کی تصدیق کی ہے۔ صحافتی اصولوں کے مطابق یہ فی الحال ایک الزام ہی ہے جس کی آزاد اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔ سوشل میڈیا کی اس سنسنی خیز دوڑ میں اکثر ایک جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حقیقت سامنے لائی جائے تاکہ نہ کسی علاقے کو بلاجواز بدنام کیا جائے اور نہ ہی کسی حقیقی انسانی استحصال پر پردہ پڑے، کیونکہ سچ تک پہنچنا ہی ایک ذمہ دار معاشرے کا پہلا فرض ہے۔



