بظاہر ایک، دل پھٹے ہوئے: قرآن کی حقانیت آج کے یورپ پر ثابت ہو گئی!

تحریر: نہال معظم
ترجمہ :”یہ سب مل کر بھی تم سے (کھلے میدان میں) نہیں لڑ سکیں گے بجز اس کے کہ قلعہ بند بستیوں میں ہوں یا دیواروں کی اوٹ میں ہوں۔ ان کی آپس کی لڑائی تو بڑی سخت ہے، تم انہیں اکٹھا خیال کرتے ہو حالانکہ ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ یہ عقل نہیں رکھتے۔”
سورۃ الحشر کی آیت نمبر 14 ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے دشمنانِ اسلام (خاص طور پر منافقین اور اہل کتاب کے گروہوں) کی باہمی پھوٹ اور دلی کیفیت کو بیان فرمایا ہے۔قرآنی بصیرت کا یہ آئینہ آج کے یورپی سیاسی منظرنامے اور مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ پر ہوبہو صادق آتا ہے جہاں بظاہر متحد نظر آنے والا مغربی بلاک اندرونی طور پر شدید تضادات اور مفادات کی جنگ کا شکار ہو چکا ہے۔
28 فروری 2026 کو ایران پر شروع کی گئی فوجی مہم نے صرف خطے کا امن ہی تباہ نہیں کیا، بلکہ مغرب کے اس بظاہر مضبوط اتحاد کی قلعی بھی کھول دی ہے جو اب اندرونی طور پر شدید تقسیم کا شکار ہے۔ اس پھوٹ کی جڑیں صرف نظریاتی نہیں، بلکہ ان عملی غلطیوں میں پیوست ہیں جنہوں نے یورپی ممالک اور امریکی انتظامیہ کے درمیان گہری خلیج پیدا کر دی ہے۔
اس انتشار کی پہلی بڑی وجہ ٹرمپ انتظامیہ کا وہ تکبر اور یکطرفہ فیصلہ سازی ہے جس نے یورپی اتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر جنگ کی آگ سلگائی۔ یورپ کے لیے یہ جنگ بغیر کسی ٹھوس سفارتی پیشگی تیاری کے شروع کی گئی، جس سے یہ تاثر عام ہوا کہ واشنگٹن یورپی تحفظات کو خاطر میں لانے کے بجائے صرف اپنے مقاصد کو فوقیت دے رہا ہے۔ دوسری اہم وجہ اسرائیل کے غیر مشروط اور ناجائز مطالبات کو ماننا ہے۔ یورپی دارالحکومتوں میں اب یہ بات کھل کر کہی جا رہی ہے کہ یہ فوجی مہم امریکی مفاد سے زیادہ اسرائیلی سیکیورٹی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ہے، جس کے بھاری اخراجات اور خطرات یورپ برداشت کر رہا ہے۔
تیسری بڑی وجہ ایران کا وہ رویہ ہے جس نے اس اتحاد کے پیر تلے زمین نکال دی ہے۔ ایران نے مذاکرات میں جس لچک کا مظاہرہ کیا اور عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کو جو وقت دیا، اس کے باوجود اس پر حملہ کر کے مغرب نے خود کو اخلاقی طور پر تنہا کر لیا ہے۔ ایران کے جوابی حملوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب وہ اسٹریٹجک دفاع میں کسی سے پیچھے نہیں، جس کے بعد یورپی ممالک میں "بورڈ آف پیس” جیسے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ یورپی قیادت اب یہ سمجھ رہی ہے کہ امریکی فوجی مہم جوئی نے انہیں ایک ایسے دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں نہ تو معاشی استحکام ممکن ہے اور نہ ہی توانائی کی فراہمی کا تحفظ۔
آج کا مغرب ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں امریکی تکبر اور یورپی بقا کا تصادم واضح ہے۔ یہ ٹوٹ پھوٹ اس بات کی دلیل ہے کہ جب فیصلے عقل اور انصاف کے بجائے انا اور ناجائز مفادات پر مبنی ہوں، تو ان کا انجام انتشار ہی ہوتا ہے۔ یہ وہی کیفیت ہے جس کی نشاندہی قرآنِ پاک نے صدیوں پہلے کر دی تھی، جہاں طاقت کا گمان تو ہوتا ہے لیکن اتحاد کی بنیادیں کھوکھلی ہوتی ہیں۔



