جمکران کا سرخ پرچم: انتقام کی پکار یا ظہور امام مہدی کی دستک؟

تحریر: نہال معظم
ایران کے مقدس شہر قم کی مضافاتی بستی میں واقع مسجدِ جمکران محض ایک عبادت گاہ نہیں، بلکہ اہل تشیع کے نزدیک "انتظارِ امام” کی سب سے بڑی عالمی علامت ہے۔ اس مسجد کی بنیاد آج سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے 373 ہجری میں اس وقت پڑی جب روایات کے مطابق شیخ حسن بن مثلہ جمکرانی نامی ایک نیک شخص کو بیداری کی حالت میں امام مہدیؑ کی زیارت ہوئی اور انہیں حکم دیا گیا کہ اس خاص زمین کی مٹی کو مقدس سمجھا جائے اور یہاں ایک مسجد تعمیر کی جائے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ جگہ ایک چھوٹی سی مسجد سے وسیع و عریض اسلامی مرکز میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں ہر سال 15 شعبان کو امام مہدیؑ کے یومِ ولادت پر لاکھوں کا مجمع اکٹھا ہوتا ہے۔ زائرین یہاں کی مخصوص دو رکعت نماز "نمازِ استغاثہ” ادا کرتے ہیں جسے نماز جمکران بھی کہا جاتا ہے۔اس کی ہر رکعت میں "ایاک نعبد و ایاک نستعین” کی سو بار تسبیح کی جاتی ہے، زائرین اپنی حاجات ایک خط کی صورت میں یہاں موجود "چاہِ عریضہ” (کنویں) میں بھی ڈالتے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ ان کا پیغام براہِ راست امامؑ تک پہنچ جائے گا۔
اس مسجد کی اہمیت اس مقدس شہر قم سے جڑی ہے جسے روایات میں "اہلِ بیتؑ کا حرم” کہا گیا ہے۔ حضرت فاطمہ معصومہؑ کے روضے اور عالمِ اسلام کے سب سے بڑے علمی مرکز "حوزہ علمیہ” کی بدولت قم ایک ایسی روحانی و فکری پناہ گاہ ہے جہاں سے اٹھنے والے فیصلے پوری دنیا کے سیاسی اور مذہبی منظرنامے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب قم کے افق پر مسجدِ جمکران کے گنبد سے سرخ پرچم لہراتا ہے، تو اسے ایک عالمی پیغام سمجھا جاتا ہے۔ سرخ پرچم کی یہ روایت صدیوں پرانی ہے اور اس کا اصل مسکن کربلا میں امام حسینؑ اور حضرت عباسؑ کے روضے ہیں، جہاں یہ پرچم اس قدیم عرب روایت کے تحت سارا سال لہراتا ہے کہ جب تک کسی مظلوم کے خون کا بدلہ نہ لیا جائے، اس کی قبر پر سرخی برقرار رہتی ہے۔ عقیدت مندوں کے نزدیک امام حسینؑ کے خون کا حتمی انتقام امام مہدیؑ کے ظہور پر ہی پورا ہوگا، اسی لیے جمکران کے گنبد پر اس پرچم کا نمودار ہونا ایک غیر معمولی اعلانِ جنگ سمجھا جاتا ہے۔
جدید تاریخ میں مسجدِ جمکران پر اس پرچم کا لہرانا پہلی بار جنوری 2020 میں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد شروع ہوا، جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ اس کے بعد نومبر 2022 میں شاہ چراغ مزار پر حملے اور پھر جولائی 2024 میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے موقع پر بھی اسے انتقام کی علامت کے طور پر لہرایا گیا۔ اب مارچ 2026 میں سپریم لیڈر امام خامنہ ای کی شہادت کے موقع پر اس کا لہرانا ایک حتمی وارننگ ہے۔ اس پرچم پر نقش الفاظ "یا لثارات الحسین” (اے حسین کے خون کا بدلہ لینے والو!) ایک تاریخی تڑپ کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ وہی نعرہ ہے جو کربلا کے بعد ندامت میں اٹھی "توابین” کی تحریک اور پھر مختار ثقفی نے بلند کیا تھا، اور مذہبی عقیدے کے مطابق یہی وہ نعرہ ہوگا جو امام مہدیؑ کے ظہور کے وقت ان کے لشکری پکاریں گے۔
مذہبی حلقوں میں جمکران پر اس پرچم کی موجودگی کو محض سیاسی انتقام نہیں بلکہ "ظہورِ امام مہدیؑ” کی دستک کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر امام محمد باقر علیہ السلام سے منسوب قدیم پیش گوئی اب ذہنوں میں تازہ ہو رہی ہے جس کے مطابق ظہور سے قبل ایک ہی رمضان کے آغاز اور وسط میں چاند اور سورج کو گرہن لگے گا۔ایک ایسی نشانی جو تاریخِ انسانی میں کبھی اس ترتیب سے ظاہر نہیں ہوئی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ امسال رمضان سے چند دن قبل اور پھر دوران رمضان چاند گرہن کے واقعات نے اس حوالے سے سنسنی میں اضافہ کر دیا اگرچہ فلکیاتی ترتیب پیشن گوئی سے زیادہ مطابقت نہیں رکھتی لیکن لوگ ان علامات کو اس حتمی عالمی معرکے کی طرف بھی منسوب کر رہے ہیں جسے ابراہیمی مذاہب "ہرمجدون” (Armageddon) پکارتے ہیں۔ مسیحی اور یہودی نکتہ نظر سے یہ "مجیدو” کی پہاڑی پر لڑی جانے والی وہ آخری جنگ ہے جس کے بعد ان کے مسیحا کا ظہور ہوگا۔ یہودی عقیدے کے مطابق یہ جنگ ان کی عالمی سیادت اور "ہیکلِ سلیمانی” کی تعمیر کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ اسلامی روایات اسے "المحمة الکبریٰ” کہتی ہیں، جہاں حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کن ٹکراؤ ہوگا۔ روایات کے مطابق ظہور سے قبل دنیا ایسے ہی بڑے فتنوں، معرکوں اور ان سماوی علامات کی زد میں ہوگی، اور جمکران سے بلند ہونے والی یہ پکار اس بات کا اشارہ ہے کہ وقتِ موعود اب قریب آ چکا ہے۔ اب جبکہ ایران ایک نازک دور سے گزر رہا ہے، جمکران کی بلندیوں پر لہراتی یہ سرخی دنیا کو پیغام دے رہی ہے کہ یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے اور مزاحمت کا یہ سفر اب اپنی آخری اور حتمی منزل کی جانب گامزن ہے۔



