ایران کے نئے سپریم لیڈر” مجتبیٰ خامنہ ای ” امریکہ اور اسرائیل کا اگلا ٹارگٹ !

تحریر:نہال معظم

ایران اس وقت تاریخ کے ایک ایسے سنگین موڑ پر ہے جہاں خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ علی خامنہ ای کی جگہ نئے سپریم لیڈر کا انتخاب محض ایک شخصیت کی تبدیلی نہیں بلکہ 1979 کے انقلاب کے بعد قائم ہونے والے پورے ریاستی ڈھانچے کی بقا کا مسئلہ ہے۔ اس اقتدار کی جنگ میں 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کا نام سرفہرست ہے، جو گزشتہ 27 برسوں سے "بیتِ رہبری” (سپریم لیڈر کے دفتر) میں بیٹھ کر عملی طور پر ملک کے دفاعی اور انٹیلی جنس امور کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ عوامی منظر نامے سے دور رہنے کے باوجود، مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس سپاہِ پاسداران (IRGC) کے طاقتور ترین ونگز، خصوصاً انٹیلی جنس یونٹس اور باسیج فورس کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے، جو انہیں کسی بھی دوسرے امیدوار کے مقابلے میں زیادہ بااثر بناتی ہے۔

​تجزیہ کاروں کے مطابق مجتبیٰ کا ظہور نظام میں کسی تبدیلی کے بجائے "سخت گیر تسلسل” کی علامت ہے، جہاں اقتدار کو خاندان اور وفادار عسکری حلقوں کے درمیان محصور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، یہ منتقلی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران معاشی طور پر مفلوج، بین الاقوامی پابندیوں میں گھرا ہوا اور داخلی طور پر نوجوان نسل کی شدید بیزاری کا سامنا کر رہا ہے۔ مجتبیٰ کے لیے اصل چیلنج صرف تخت سنبھالنا نہیں، بلکہ اس عوامی غصے کو روکنا ہے جو کسی بھی وقت سڑکوں پر ایک بڑے لاوے کی صورت میں پھٹ سکتا ہے۔

​عسکری اور تزویراتی لحاظ سے صورتحال اس وقت سنسنی خیز ہو گئی جب یہ دعوے سامنے آئے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اب اسرائیل اور امریکہ کے ممکنہ ہدف بن سکتے ہیں۔ اگرچہ ایک خودمختار ریاست کے سربراہ پر براہِ راست حملہ خطے کو ایک بے قابو علاقائی جنگ میں دھکیل سکتا ہے، لیکن حالیہ مہینوں میں اسرائیل کی جانب سے تہران کے دل میں کی جانے والی ٹارگٹڈ کارروائیوں نے اس تجزیاتی خطرے کو حقیقت کے قریب کر دیا ہے۔ ایران اس وقت لبنان، غزہ، شام اور یمن میں اپنے پراکسی نیٹ ورک کے ذریعے ایک کثیر الجہتی جنگ میں الجھا ہوا ہے، اور قیادت کی ذرا سی لغزش پورے مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کو تلپٹ کر سکتی ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ مجتبیٰ اقتدار کیسے سنبھالتے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ IRGC کے اندرونی دھڑوں کو متحد رکھ پائیں گے؟ اگر طاقت کے مراکز میں دراڑ پڑی، تو معاشی بحران اور عالمی دباؤ کا سونامی اس نئے اقتدار کو چند ہفتوں میں بہا لے جا سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button