”مردِ آہن” کا آخری محاذ: تہران کے قلعے میں غداری کی نقب کیسے لگی؟

نہال معظم
تہران کے آسمان پر منڈلاتے جاسوسی اور غداری کے بے رحم سائے تلے علی خامنہ ای کی دہائیوں پر محیط مزاحمت کا سورج آخر کار غروب ہو گیا۔ دنیا کی سب سے طاقتور اور عیار جاسوسی ایجنسی ‘سی آئی اے’، جس کا خاصہ ہی پسِ پردہ حکومتیں گرانا اور سرحدوں کے پار خونی شطرنج کھیلنا ہے، اس بار اپنے اس مشن میں کامیاب رہی جس کا ہدف ایران کا دل تھا۔ سی آئی اے نے اپنی روایتی چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزائلوں کے بجائے ‘ڈیجیٹل زہر’ اور ‘انسانی غداری’ کا وہ جان لیوا آمیزہ تیار کیا جس نے ایران کے آہنی حصار میں ناقابلِ تلافی نقب لگا دی۔ اس بھیانک کھیل کا مرکز وہ علی خامنہ ای تھے جنہیں دنیا ‘مردِ آہن’ کے طور پر جانتی تھی، جنہوں نے چالیس سال تک امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بساط بچھائے رکھی، مگر اب وہ ‘شہید’ ہو کر تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
سی آئی اے نے اس بار ‘مردِ آہن’ کے سب سے وفادار سمجھے جانے والے ادارے ‘پاسدارانِ انقلاب’ کے اندرونی خلفشار اور سیاسی دراڑوں کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنایا۔ ڈالروں اور مراعات کے عوض ضمیر بیچنے والے ان مہروں نے خامنہ ای کے انتہائی حساس اور خفیہ ٹھکانوں تک رسائی فراہم کر کے قلعے کے اندر سے دروازے کھول دیے۔ وہ مواصلاتی آلات اور ایپس جنہیں ایرانی قیادت اپنا سب سے بڑا راز سمجھ کر استعمال کر رہی تھی، دراصل سی آئی اے کے کان بن چکے تھے۔ ریئل ٹائم لوکیشنز اور بند کمروں کی میٹنگز کا ڈیٹا براہِ راست دشمن تک پہنچ رہا تھا، جس کی بنیاد پر قیادت کا وہ منظم صفایا ہوا جس نے تہران کے پورے دفاعی نظام کی چولہیں ہلا کر رکھ دیں۔ یہ محض جاسوسی نہیں بلکہ ایک ایسا کاری وار تھا جس نے ثابت کر دیا کہ اب ان کا اپنا قلعہ بھی ان کے لیے محفوظ نہیں رہا تھا۔
مستقبل کا نقشہ اب ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ‘مردِ آہن’ کا سایہ رخصت ہو چکا ہے۔ زخمی ایران اب اپنے ہی اداروں کے اندر ایک بڑی ‘جراحی’ اور تطہیر کا عمل شروع کرنے پر مجبور ہے، جس سے اندرونی خلفشار مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ خطے کی بساط پر شام، لبنان اور یمن میں ایران کی گرفت کمزور پڑ سکتی ہے، جس کا براہِ راست فائدہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو ملے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ علی خامنہ ای جیسا منجمد کھلاڑی آسانی سے ہار نہیں مانتا تھا، مگر ان کی شہادت کے بعد اب خطے میں براہِ راست جنگ کے بجائے ایک ہولناک ‘سائے کی جنگ’ اور سائبر حملوں کا وہ نیا دور شروع ہوگا جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی اور غیر یقینی آگ میں جھونک سکتا ہے۔ ‘مردِ آہن’ کا یہ آخری محاذ ثابت کر گیا کہ سی آئی اے کی ضرب کاری تھی، اور اب ایران کو اپنے ٹوٹے ہوئے حصار کو دوبارہ جوڑنے کے لیے کسی نئے معجزے کی تلاش ہو گی۔



