لاہور میں ناصر باغ کے درختوں کی کٹائی پر تشویش،ایچ آر سی پی کا شدید احتجاج

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے)لاہور کے تاریخی ناصر باغ میں مبینہ طور پر پارکنگ پلازہ کے لیے راستہ بنانے کی خاطر درختوں کی کٹائی نے شہری حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے اس صورتِ حال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے لاہور کی ماحولیاتی اور ثقافتی وراثت پر خطرناک حملہ قرار دیا ہے۔

ناصر باغ شہر کی قدیم ترین عوامی سبز جگہوں میں سے ایک ہے، جس کے پختہ اور سایہ دار درخت لاہور کے شہری ماحول کا اہم حصہ ہیں۔ ایچ آر سی پی کے مطابق ان درختوں کی کٹائی نہ صرف ماحولیات کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے بلکہ یہ شہریوں کے صحت مند ماحول کے بنیادی حق کو بھی چیلنج کرتی ہے۔

تنظیم نے کہا کہ تجارتی انفراسٹرکچر کی خاطر اس نوعیت کا نقصان عوامی ورثے اور ماحولیاتی توازن کو یکسر نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ جب پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات کا شکار ممالک میں شامل ہے، ایسے وقت میں شہری سبز احاطوں کو تباہ کرنا حکومتی ترجیحات میں شدید گمراہی کی نشاندہی کرتا ہے۔

ایچ آر سی پی نے پنجاب حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر درختوں کی کٹائی روکی جائے، منصوبے کی تمام منظوریوں کو عوام کے سامنے لایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل کی کوئی بھی ترقی ماحولیاتی تحفظ اور عوامی مفاد کو نظر انداز نہ کرے۔

یہ معاملہ لاہور کے شہری ماحول، تاریخی شناخت اور موسمیاتی مستقبل کے لیے اہم نوعیت رکھتا ہے، جس نے سول سوسائٹی، ماہرین ماحولیات اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ترقی اور ماحول کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button