ناسا کا آرٹیمس مشن،چاند کا چکر… یا دنیا کو ایک اور چکر؟

تحریر:نہال معظم

​50سال سے زائد کا طویل عرصہ بیت گیا، نسلیں جوان ہو کر بوڑھی ہو گئیں اور سائنس نے زمین پر موبائل فون سے لے کر مصنوعی ذہانت تک کے معجزے کر دکھائے، لیکن ایک سوال آج بھی وہیں کھڑا ہے کہ اگر انسان آدھی صدی پہلے چاند پر چہل قدمی کر چکا تھا تو پھر یہ طویل خاموشی کیوں تھی؟ اور اب اچانک آرٹیمس ٹو کے نام پر یہ نیا ہنگامہ کیوں برپا کیا جا رہا ہے؟ یکم اپریل 2026 کی صبح جب فلوریڈا کے ساحل سے دنیا کا طاقتور ترین راکٹ ایس ایل ایس فضاؤں کا سینہ چاک کر کے نکلا تو پوری دنیا کی نظریں اس خبر پر جم گئیں، کیونکہ اس بار ناسا کے لیے کوئی "سٹوڈیو ڈرامہ” رچانا ممکن نہیں رہا۔ ماضی کے اپولو مشنز، جن میں نیل آرمسٹرانگ کے قدموں کے نشانات سے لے کر لہراتے ہوئے جھنڈے تک سبھی کچھ آج بھی شکوک و شبہات کی زد میں ہے، اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں میدان میں صرف امریکہ اکیلا نہیں۔ اب چین کا ‘شانگے’ مشن، روس، بھارت کا ‘چندریان’ اور کئی نجی کمپنیاں بھی خلا کی تسخیر میں برابر کی شریک ہیں، ایسے میں ذرا سی بھی مشکوک حرکت ناسا کی عالمی ساکھ کو خاک میں ملا سکتی ہے۔

​اس مشن کی سب سے سنسنی خیز بات یہ ہے کہ اس میں چار جری خلا باز زمین کے محفوظ مدار کو چھوڑ کر اس گہری خلا میں داخل ہو رہے ہیں جہاں کائناتی شعاعیں اور موت جیسی خاموشی انسان کا استقبال کرتی ہے۔ مشن کمانڈر ریڈ وائزمین کی قیادت میں وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن اب اس اورین نامی جدید ترین خلائی جہاز میں بند اس لامتناہی مسافت پر ہیں جو انہیں چاند کے اس پراسرار پچھلے حصے تک لے جائے گی۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنی جدید ٹیکنالوجی کے باوجود یہ خلا باز اس بار چاند کی مٹی پر قدم نہیں رکھیں گے بلکہ وہ صرف اس کے گرد ایک چکر کاٹ کر واپس آ جائیں گے، جسے ناسا ایک بڑی کامیابی قرار دے رہا ہے۔ لیکن ناقدین پوچھتے ہیں کہ جناب، جب پچھلی صدی میں اپولو مشن کے دوران انسان وہاں گولف کھیل رہا تھا تو آج اتنی ترقی کے بعد صرف دور سے سلام کر کے واپس آنے پر کیوں اکتفا کیا جا رہا ہے؟

​اس مشن کا اصل ہدف تو چاند پر مستقل انسانی بستیاں بسانے کے لیے زمین ہموار کرنا ہے تاکہ مستقبل میں مریخ جیسے دور دراز سیاروں تک رسائی کے لیے اسے ایک لانچنگ پیڈ اور بیس کیمپ کے طور پر استعمال کیا جا سکے، مگر حال ہی میں سامنے آنے والی سائنسی رپورٹس نے ایک نیا خوف پیدا کر دیا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ چاند اندرونی طور پر ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے مسلسل سکڑ رہا ہے اور اس کی سطح پر بڑی دراڑیں پڑ رہی ہیں، جس سے وہاں زلزلے آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس بار وہاں واقعی کوئی بستی بس پائے گی یا پھر ان خلا بازوں کی ملاقات اسی قدیم قصوں والی "چرغہ کاتنے والی بڑھیا” سے ہو جائے اور وہ واپسی پر ہمیں پھر سے ایک نیا سوت کات کر تھما دیں جسے سلجھانا شاید اگلی کئی دہائیوں تک ممکن نہ ہو۔

​دس دن کے اس سفر میں یہ چاروں مسافر چاند کی سطح سے محض دس ہزار کلومیٹر کی دوری سے گزریں گے اور چاند کی اپنی ہی کششِ ثقل کو ایک غلیل کی طرح استعمال کر کے واپس زمین کی طرف پلٹیں گے۔ یہ ایک ایسا خطرناک کرتب ہے جس میں سیکنڈ کے ہزارویں حصے کی غلطی انہیں ہمیشہ کے لیے خلا کا لقمہ بنا سکتی ہے۔ مشن میں پہلی بار ایک خاتون اور ایک سیاہ فام خلا باز کی شمولیت کو ایک بڑی تبدیلی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ اسے عالمی سچائی کا رنگ دیا جا سکے، مگر اصل امتحان اس ہائی ڈیفینیشن ڈیٹا کا ہوگا جو دوسرے ممالک کے خلائی ادارے بھی مانیٹر کر رہے ہوں گے۔ جب یہ مشن بحر الکاہل کی لہروں میں گرے گا تو وہ صرف چار انسانوں کی واپسی نہیں ہوگی بلکہ یہ اس بات کا فیصلہ ہوگا کہ کیا انسان واقعی چاند کو فتح کرنے کے قابل ہے یا یہ سب ایک بار پھر دنیا کو دیا گیا محض ایک "نیا چکر” ہے۔

مزید خبریں

Back to top button