پاکستان کی 98فیصدآبادی رجسٹرڈ،نوجوان کی تعداد میں حیران کن اضافہ

لاہور(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان کی 98فیصدآبادی رجسٹرڈ،نوجوان کی تعداد میں حیران کن اضافہ،نادرا کے مطابق ملک کی97فیصد آبادی سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہے۔قومی شناختی نظام میں تقریباً 98.3 فیصد بالغ آبادی کی رجسٹریشن مکمل ہونے کے باوجود تقریباً 1.7 فیصد بالغ افراد نے ابھی تک شناختی کارڈ نہیں بنوایا۔بالغ ہونے کے باوجود شناختی کارڈ نہ بنوانے والے شہریوں میں زیادہ تر تعداد خواتین کی ہے اور بعض ایسے اضلاع جہاں مقامی حکومت کے اداروں سے پیدائش کی سول دستاویزات بنوانے والوں کی تعداد کم ہےوہاں شناختی کارڈ نہ بنوانے والوں میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں۔
نادرا مقامی حکومت کی جانب سے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ پیدائش کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر پہلی بار رجسٹریشن کرتا ہے۔
اس کی غیرموجودگی ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے۔ سال 2025 کی سالانہ رپورٹ کی تیاری کے دوران نادرا نے ادارۂ شماریات پاکستان، الیکشن کمیشن آف پاکستان، قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں، قومی کمیشن برائے بہبودِ اطفال و ترقی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر گزشتہ 10 برس کے رجسٹریشن کے اعداد و شمار کا تفصیلی تجزیہ کیااس تجزیے میں آبادی کے رجحانات، مختلف اضلاع اور اصناف کے درمیان فرق کا جائزہ لے کراس خلاء کے اسباب کی نشاندہی کی گئی اور اصلاحی اقدامات تجویز کیے گئے۔
ان سفارشات کی روشنی میں وفاقی وزیر برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے ایک منظم اور قانونی بنیاد پر مبنی سہولت متعارف کرانے کی ہدایت جاری کی، جس کی منظوری بعد ازاں نادرا اتھارٹی بورڈ نے بھی دے دی۔
اسی تناظر میں نادرا نے پہلی بار رجسٹریشن کے لیے ایک مخصوص سہولت متعارف کرائی ہے جو 31 دسمبر 2026 تک مؤثر رہے گی۔ اس طریقۂ کار کے تحت ایسے افراد جن کے پاس مقامی حکومت کا کمپیوٹرائزڈ پیدائش سرٹیفکیٹ دستیاب نہ ہو، انہیں تصدیق کی شرائط پوری ہونے پر کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جاری کیا جا سکے گا۔
یہ سہولت نادرا آرڈیننس اور قومی شناختی کارڈ کے مروجہ قواعد و ضوابط کی ان شقوں کے تحت دی جا رہی ہے جو نادرا کو رجسٹریشن میں اضافے کی غرض سے مخصوص حالات میں متبادل تصدیقی طریقہ کار کے ذریعے قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
اس سہولت کے تحت شناختی کارڈ صرف ان افراد کو جاری کیا جائے گا جن کی شناخت نادرا کے موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر متعین کی جا سکے اور پہلے سے رجسٹرڈ خاندان کے قریبی افراد کی لازمی بائیومیٹرک تصدیق مکمل ہو جائے۔
اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کی شادی شدہ خاتون کے لیے مقامی حکومت کا مستند نکاح نامہ، والدین میں سے کسی ایک کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ، شوہر کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ، اور والدین میں سے کسی ایک اور شوہر کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔
اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کی غیر شادی شدہ خاتون کے لیے والدین میں سے کسی ایک کا کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور شناختی کارڈ کے حامل والد یا والدہ کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔
چوبیس سال سے زائد عمر کے مرد درخواست گزار کے لیے ضروری ہو گا کہ والدین میں سے کسی ایک کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ موجود ہو اور کم از کم ایک بہن یا بھائی بھی رجسٹرڈ ہو، جبکہ والدین میں سے کسی ایک کی بائیو میٹرک شناخت کی تصدیق لازمی ہو گی۔
اگر کسی درخواست گذار کے والد اور والدہ دونوں یا شوہر وفات پا چکے ہوں لیکن ان کا ریکارڈ نادرا میں موجود ہو تو مجاز افسر ریکارڈ کی بنیاد پر جانچ کے بعد بائیو میٹرک کی تصدیق سے استثنیٰ دے سکتا ہے۔
محدود مدت کی یہ سہولت تصدیق کے ان مراحل کی تکمیل سے مشروط ہو گی۔ مزید سہولت کے لیے اس طریقۂ کار کے تحت نارمل کیٹیگری میں نان اسمارٹ شناختی کارڈ کسی فیس کے بغیر جاری کیا جائے گا۔
قومی شناختی نظام میں اندراج کے بعد ولدیت، تاریخِ پیدائش اور جائے پیدائش ناقابلِ تنسیخ اور ناقابلِ تبدیلی ہوں گے۔ نادرا کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ رجسٹریشن کے وقت تمام معلومات کی درستی کو یقینی بنائیں۔ ان شرائط پر پورا اترنے والے اہل درخواست گزار مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے قریبی نادرا رجسٹریشن مرکز سے اپنا شناختی کارڈ بنوائیں۔



