بھارت میں مسلمان ہونا جرم بن گیا:باجماعت نماز ادا کرنے پر 12 افرادگرفتار

بریلی(جانوڈاٹ پی کے)بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بریلی میں پولیس نے ایک گھر میں باجماعت نماز ادا کرنے پر 12 افراد کو گرفتار کرلیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں گاؤں کے مسلمان ایک گھر کے اندر باجماعت نماز ادا کر رہے تھے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی افراد نے پولیس کو اطلاع دی کہ ایک خالی مکان کو مبینہ طور پر کئی ہفتوں سے عارضی مسجد کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے امن و امان خراب کرنے کے الزام میں 12 افراد کو گرفتار کرلیا۔
رپورٹ کے مطابق مالک مکان کی اجازت اور مرضی سے گاؤں کے مسلمان وہاں نماز ادا کر رہے تھے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ خالی مکان حنیف نامی شخص کی ملکیت ہے اور اسے عارضی طور پر جمعہ کی نماز کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
گرفتار کیے گئے تمام 12 افراد کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا۔
کانگریس رہنما ڈاکٹر شمع نے پولیس کی اس امتیازی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا پر تبصرہ کیا کہ اتر پردیش پولیس نے بریلی میں 12 مسلمانوں کو ان کے اپنے گھروں میں نماز ادا کرنے پر گرفتار کیا ہے، ان مسلمانوں کو کس بنیاد پر گرفتار کیا گیا؟ انہوں نے کون سا قانون توڑا ؟
ان کا کہنا تھا کہ اتر پردیش پولیس اپنے ہی شہریوں کو ان کے گھروں میں عبادت کرنے پر ہراساں کرنے میں مصروف ہے۔
انڈین نیشنل کانگریس کی قومی ترجمان اور صحافی سپریا شرینیت نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا مذہبی عبادت پر اس طرح کی کارروائیاں قابلِ قبول ہیں؟ واقعے نے مذہبی عبادت کے حوالے سے سماجی حساسیت دوبارہ بڑھا دی ہے۔



