رمضان قتل کیس،تھرپارکر ضلع میں سوگ،تھرکول روڈ پر لاش رکھ کر دھرنا،ٹریفک معطل

مٹھی(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/ نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے)ڈیپلو -کڈھن روڈ پر علی بندر کے قریب قتل کیے جانے والے رمضان کھوسو کے جسم سے 1 گولی ملی۔ جبکہ گاڑی کے اوپر 11 فائر کیئے گئے۔ لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی جس کے بعد ورثا نے لاش ڈیپلو سے مٹھی لے کر تھرکول روڈ پر دھرنا دیا۔ جس کے باعث میرپورخاص، نوکوٹ اور کراچی سے براستہ بدین آنے والی ٹریفک معطل ہوگئی اور ہزاروں گاڑیاں سڑک کے تین اطراف کھڑی ہوگئیں۔ احتجاج میں شامل لوگوں نے پولیس اور منتخب نمائندوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔نوجوان کے قتل کے بعد ضلع تھرپارکر میں سوگ کی کیفیت ہے، پولیس کے خلاف غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔دھرنے میں شریک متوفی کے ورثاء کا کہنا ہے کہ اگر گاڑی رکوانہ ہوتی تو وہ ٹائر رسٹ کر سکتے تھے لیکن پولیس ہمارے خالی ہاتھ نوجوان پر گولیاں چلائیں۔ مارنے کے بعد اس کو کار میں بند کر لیا اور وہاں سے چلے گئے۔ مقتول کے بھائی کا کہنا ہے کہ ایک ہفتہ قبل ایس ایچ او ڈیپلو نے رمضان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی اور اس نے ظاہر کیا تھا کہ ایس ایچ او اور پولیس اہلکار ہمارے نوجوان کے قاتل ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک ان کی گرفتاری اور ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جاتا وہ دھرنا ختم نہیں کریں گے۔

مزید خبریں

Back to top button