وزیرآباد کی میونسپل کمیٹی کی مجوزہ حد بندی پر شہریوں،سماجی اورسیاسی شخصیات کےشدید اعتراضات

وزیرآباد(جانوڈاٹ پی کے) میونسپل کمیٹی وزیرآباد کی حد بندی پر مقامی سماجی شخصیات و سیاسی راہنماؤں کی جانب سے شدید اعتراضات، شہریوں کا آبادی کم دکھانے اور اربن ایریاز خارج کرنے کا الزام ضلعی انتظامیہ میونسپل کارپوریشن کی راہ میں روڑے نہ اٹکائے،دھونکل اور گھکامیتر اربن علاقے حد بندی میں انہیں رورل علاقہ جات تصور کرنے پر احتجاج کیا اور اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی۔میونسپل کمیٹی وزیرآباد کی مجوزہ حد بندی (Form-I) کے خلاف شہریوں کی جانب سے شدید اعتراضات سامنے آ گئے ہیں۔ حکومتِ پنجاب کی طرف سے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025 کے تحت جاری ابتدائی نوٹیفکیشن پر شہری نمائندوں، وکلاء، سماجی و مذہبی شخصیات اور تاجرتنظیموں نے قانونی و انتظامی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے زمینی حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔اس سلسلے میں شہریوں کی جانب سے کمشنر/ڈپٹی کمشنر ضلع وزیرآباد کو باضابطہ اعتراضات جمع کروا دیے گئے ہیں۔ اعتراض کنندگان میں سابق ناظم محمد خالد مغل، صدر انجمن تحفظ حقوق عوام افتخار احمد بٹ،معروف مذہبی و سماجی شخصیت پروفیسر حافظ منیر احمد، نائب صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن عمران سمراء ایڈووکیٹ، صدر انجمن شہریاں میاں شہباز احمد سمیت متعدد معزز شہری شامل ہیں۔اعتراضات میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نوٹیفکیشن کے مطابق میونسپل کمیٹی وزیرآباد کی حدود میں صرف چند ریونیو اسٹیٹس شامل کیے گئے ہیں اور آبادی 1 لاکھ 81 ہزار 518 ظاہر کی گئی ہے، جبکہ حقیقت میں وزیرآباد شہر کی آبادی دو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کا عملی، جغرافیائی اور شہری پھیلاؤ اس مجوزہ حد بندی سے کہیں زیادہ وسیع ہے، جسے دانستہ طور پر محدود ظاہر کیا جا رہا ہے۔اعتراض میں نشاندہی کی گئی کہ وزیرآباد کے ساتھ مکمل طور پر متصل اور شہری نوعیت رکھنے والے علاقے سوہدرہ، تلواڑہ اور دھونکل کو بلاجواز حد بندی سے خارج کر دیا گیا ہے، یہ علاقے شہر سے جغرافیائی طور پر جڑے ہوئے، شہری سہولیات اور روزگار کے حوالے سے وزیرآباد کے ساتھ مربوط ہیں اور عملی طور پر اربن آبادی کا حصہ ہیں۔ شہریوں کے مطابق یہ اخراج پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025 کی دفعہ 6(2) کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کے تحت لوکل ایریا کا compact اور contiguous ہونا لازم ہے۔اعتراضات میں مزید کہا گیا کہ قانون کے تحت اگر کسی مربوط شہری علاقے کی آبادی دو لاکھ سے تجاوز کر جائے تو اسے میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا جا سکتا ہے، تاہم موجودہ حد بندی کو اس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ آبادی کو جان بوجھ کر اس حد سے کم دکھایا جا سکے، جو قانون کی روح کے منافی ہے۔شہریوں نے خبردار کیا کہ موجودہ حد بندی برقرار رہنے کی صورت میں صفائی، پانی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور شہری انفراسٹرکچر کے مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے، تحصیل کونسل پر غیر ضروری اربن بوجھ برقرار رہے گا اور شہری و دیہی انتظام میں توازن قائم نہیں رہ سکے گا۔اعتراض کنندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ Form-I نوٹیفکیشن پر فوری نظرثانی کی جائے، وزیرآباد کے ساتھ متصل علاقوں سوہدرہ، تلواڑہ، دھونکل اور گھکا میتر کو اربن ایریا قرار دے کر حد بندی میں شامل کیا جائے اور میونسپل کمیٹی وزیرآباد کو میونسپل کارپوریشن بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ اس معاملے کا قانونی، انتظامی اور عوامی مفاد کے تناظر میں جائزہ لے کر انصاف پر مبنی فیصلہ کرے گی۔

مزید خبریں

Back to top button