بون میر نمائش: ہزار سالوں پر محیط ممتا کے بدلتے روپ کا نوحہ

تحریر:نہال معظم
فرانس کے ساحلی شہر مارسیل میں واقع میوزیم آف یورپین اینڈ میڈیٹیرینین سیویلائزیشنز میں جاری نمائش “Bonnes Mères” صرف ایک آرٹ ایونٹ نہیں بلکہ ماں کے تصور کا بے لاگ جائزہ ہے۔ یہ نمائش بظاہر ایک ہزار سالہ تاریخ یعنی قرون وسطیٰ سے جدید دور تک کو دیکھتی ہے، مگر اصل دائرہ قدیم تہذیبوں سے لے کر آج کے ڈیجیٹل دور تک ممتا کے بدلتے معنی کو سمیٹتا ہے۔
نمائش کا عنوان مارسیل کے مشہور مذہبی مقام نوتر دام دے لا گارد سے لیا گیا ہے، جسے مقامی لوگ “اچھی ماں” کہتے ہیں۔ مگر داخل ہوتے ہی یہ رومانوی تصور ٹوٹتا ہے۔ یہاں ماں صرف محبت اور قربانی کی علامت نہیں بلکہ ایک انسان کے طور پر دکھائی دیتی ہے جو تھکن، خواہشات اور کبھی بغاوت سے بھی گزرتی ہے۔
سترہویں صدی کی ایک گمنام پینٹنگ اس بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ اس میں ماں اپنے بچے کے ساتھ موجود ہے مگر نظریں ایک تاریک کھڑکی پر جمی ہیں، جیسے وہ اپنی ادھوری زندگی کے کسی کھوئے حصے کو دیکھ رہی ہو۔ یہ فن پارہ اس خیال کو چیلنج کرتا ہے کہ ماں ہمیشہ مکمل اور مطمئن ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ رکھی گئی جدید ویڈیو انسٹالیشن سوال بڑھاتی ہے کہ اگر مستقبل میں مشینیں بچوں کی پرورش کرنے لگیں تو کیا انسانی ممتا کا لمس باقی رہے گا یا صرف ایک یاد بن کر رہ جائے گا۔
نمائش میں قدیم یونانی اور رومی نوادرات بھی شامل ہیں، جہاں ماں کو طاقتور اور کبھی خوفناک قوت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ میسوپوٹیمیا اور مصر کی مورتیاں بتاتی ہیں کہ ایک وقت میں ماں گھر تک محدود نہیں بلکہ کائناتی طاقت کا مرکز تھی۔ نشاۃ ثانیہ کے دور میں یہ طاقت ایک خاموش تقدس میں بدل گئی اور ماں کو ایک مثالی کردار کے طور پر پیش کیا گیا، مگر جدید فنکاروں نے اس تصویر کو توڑنے کی کوشش کی۔
1970 کی دہائی کی حقوق نسواں کی تحریک سے جڑے فن پاروں میں ماں کو تھکی، الجھی اور روزمرہ کی جدوجہد میں پھنسی ایک حقیقی انسان کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ کچھ فن پارے تو زچگی کے جسمانی اور ذہنی درد کو اس شدت سے پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والا رومانوی تصور سے باہر نکلنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
بیسویں صدی کے جنگی ادوار میں ریاستوں نے ماں کے کردار کو حب الوطنی کے بیانیے میں استعمال کیا۔ ماں کا مقصد صرف ایسے بیٹے پیدا کرنا تھا جو جنگ میں کام آئیں، جبکہ اس کے اپنے دکھ اور خوف پس منظر میں چھپ گئے۔ آج کے دور میں یہ دباؤ سوشل میڈیا کی شکل اختیار کر گیا ہے، جس میں “پرفیکٹ ماں” کو ہر وقت خوش، کامیاب اور مکمل دکھائی دینا ہوتا ہے۔ نمائش کا جدید حصہ اس مصنوعی تصور کو چیلنج کرتا ہے اور دکھاتا ہے کہ ماں بھی ایک عام انسان ہے، جس کے اپنے مسائل، کمزوریاں اور خواہشات ہیں۔
یہ نمائش بنیادی سوال اٹھاتی ہے: کیا ہم نے ماں کو واقعی ایک انسان کے طور پر سمجھا ہے یا صرف ایک مقدس کردار بنا کر اس کی شناخت کو دبا دیا؟ مارسیل کی یہ کہانی بتاتی ہے کہ ممتا نہ صرف قربانی یا محبت ہے بلکہ ایک پیچیدہ انسانی تجربہ ہے جس میں طاقت، کمزوری اور مسلسل جدوجہد شامل ہیں۔ یہی وہ سچ ہے جو یہ نمائش بغیر کسی لفاظی کے سامنے لاتی ہے اور دیکھنے والے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔



