امریکااوراسرائیل آپس میں ہی لڑ پڑے،تل ابیب کے بازار ویران

​تہران/واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں ایک طرف ایران نے مجتبیٰ علی خامنہ ای کو اپنا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے، تو دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مالِ غنیمت (تیل کے ذخائر) کی تقسیم پر شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جھڑپوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، حالانکہ امریکہ نے باضابطہ طور پر صرف 7 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ اسرائیل کے اندر اس وقت موت کا خوف طاری ہے اور تل ابیب کے بازار ویران ہو چکے ہیں کیونکہ لوگ ایرانی میزائلوں کے ڈر سے زیرِ زمین بنکروں میں پناہ گزین ہیں۔ ادھر واشنگٹن میں ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے نئے ایرانی لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو کھلے عام ‘قتل کی دھمکی’ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا انجام بھی ان کے والد جیسا ہوگا۔ اس صورتحال کے پسِ پردہ امریکی غصے کی اصل وجہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی تیل کے کنوؤں پر حملے ہیں، کیونکہ امریکہ ان ذخائر پر قبضہ کر کے منافع کمانا چاہتا ہے نہ کہ انہیں راکھ بنتے دیکھنا۔ مزید تفصیلات کے لیے صحافی گوہر بٹ کا یہ تجزیہ ملاحظہ فرمائیں

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button