صاف پانی میں غلاظت شامل ہو رہی ہے، ہم سب آلودہ پانی پی رہے ہیں، ڈاکٹر مصدق ملک کا سنگین انکشاف

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے)وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے خبردار کیا ہے کہ صاف پانی میں غلاظت اور فضلہ شامل کیا جا رہا ہے اور یہی آلودہ پانی عوام استعمال کر رہے ہیں، جو ایک سنگین ماحولیاتی اور صحت کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
آبی ذخائر کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ماحول کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسا سیارہ عطا کیا ہے جہاں زندگی گزارنے کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں، تاہم قدرت کے ساتھ ہمارا رویہ تشویشناک ہوتا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نباتات اور جنگلی حیات انسانی زندگی کے لیے انتہائی اہم ہیں اور قدرتی نظام میں توازن برقرار رکھنے کے لیے ان کا تحفظ ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم جو قدرت پر ظلم کر رہے ہیں، اب اس پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صاف پانی میں بڑی مقدار میں فضلہ شامل ہو رہا ہے، جس کے سنگین اثرات براہِ راست انسانی صحت پر پڑ رہے ہیں۔
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ فضائی اور آبی آلودگی موجودہ دور کے بڑے چیلنجز میں شامل ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرندے ہمیشہ صاف اور محفوظ ماحول کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں، تاہم اسلام آباد اور لاہور جیسے شہروں میں تیزی سے نئی آبادیاں بننے کے باعث قدرتی راستے اور ماحولیاتی توازن متاثر ہو رہا ہے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے چھوٹے ڈیمز کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ دو سال میں ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے کا ارادہ رکھتی ہے اور فضلہ ٹھکانے لگانے کے مؤثر طریقۂ کار کو بھی حتمی شکل دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کئی قدرتی جھیلوں کے کناروں پر تعفن اور بدبو پھیل چکی ہے، جسے ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف پانی، جھیلیں یا کشتیاں نہیں بلکہ انسانی زندگی کو برقرار رکھنے کا ایک مکمل نظام ہے، جس کا تحفظ ناگزیر ہے۔



