پاکستان کی فضائی حدود بند، 16 مقامات پر حملے اور بارڈر پر شدید جھڑپیں!

اسلام آباد/کوئٹہ (جانوڈاٹ پی کے) پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق افغان طالبان نے بلوچستان میں قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن سمیت 16 مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جنہیں پاک فوج نے موثر طریقے سے پسپا کر دیا ہے۔ ان جھڑپوں میں اب تک 27 افغان طالبان ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایف سی کا ایک جوان شہید اور پانچ زخمی ہوئے۔ پاک افغان بارڈر پر 25 مقامات پر تاحال شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پاکستان ایئر فورس (PAF) نے 31 مارچ تک ملک کی فضائی حدود جزوی طور پر بند کر دی ہے تاکہ جنگی مشقیں اور لائیو فائرنگ ڈرلز کی جا سکیں۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بھارت نے بھی پاکستانی سرحد سے محض 20 کلومیٹر دور راجستھان اور جیسلمیر کے علاقوں میں فضائی مشقوں کا اعلان کیا ہے۔ دفاعی ماہرین اسے پاکستان کو دو محاذوں پر انگیج کرنے کی ایک بڑی عالمی سازش قرار دے رہے ہیں۔
وی لاگ میں یہ سنسنی خیز انکشاف بھی کیا گیا کہ پاکستان نے ایک اسرائیلی ساختہ ڈرون مار گرایا ہے جو افغانستان کی طرف سے پاکستانی حدود میں داخل ہوا تھا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارت اور اسرائیل مل کر افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم، پاک فوج نے جوابی کارروائی میں افغان بارڈر کی 90 فیصد چوکیوں کو تباہ کر کے وہاں سبز ہلالی پرچم لہرا دیا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کی مکمل تفصیلات کے لیے سینیئر صحافی معظم فخر کا یہ وی لاگ دیکھئے:




