امریکہ کی بغل میں چھری، منہ میں رام رام: تہران کا پارہ ہائی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہونے اور ایران و امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے جہاں ایک جانب پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے لیے سرگرم ہے تو دوسری جانب امریکہ کی نئی فوجی تعیناتیوں نے مذاکراتی عمل پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے حال ہی میں پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور خاموش دورہ کیا ہے جس کا مقصد ایران کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا تاہم پینٹاگون کی جانب سے خلیج میں مزید فوج بھیجنے کے فیصلے نے تہران کو سخت برہم کر دیا ہے۔ ایران نے واضح وارننگ جاری کی ہے کہ اگر امریکہ نے جزیرہ خارک پر قبضے یا ایران کی زمینی خود مختاری کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تو ایرانی افواج کویت اور بحرین سمیت خطے کی دیگر اہم تیل کی تنصیبات پر قبضہ کر لیں گی جس سے عالمی معیشت مفلوج ہو سکتی ہے۔ اس حساس صورتحال میں پاکستان نے 30 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے تاکہ اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے لیکن اسرائیل کی جانب سے جاری جارحیت اور ایران کے جوابی میزائل حملوں نے امن کی ان کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کیا ڈونلڈ ٹرمپ ایک ہاتھ میں لاٹھی اور دوسرے ہاتھ میں گاجر کی پالیسی چھوڑ کر حقیقی امن کی طرف بڑھیں گے یا یہ خطہ ایک ایسی خوفناک جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔
مکمل وی لاگ دیکھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:




