مسلمان ممالک آمنے سامنے:اسرائیل کی سب سے خطرناک سازش کامیاب؟

دوحہ/تہران(جانوڈاٹ پی کے) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اس وقت ایک انتہائی خطرناک اور سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جب ایران نے قطر کی سب سے بڑی مائع گیس فیلڈ ‘راس الفان’ پر میزائلوں اور ڈرونز سے تابڑ توڑ حملے کر کے اسے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں گیس فیلڈ میں لگنے والی خوفناک آگ اور زوردار دھماکوں کے بعد قطری حکام نے تاحکمِ ثانی پیداوار بند کر دی ہے، جو عالمی سطح پر گیس کی فراہمی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس سنسنی خیز صورتحال کا سب سے بڑا پہلو قطر کا وہ غیر معمولی ردِ عمل ہے جس میں اس نے ایران کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے ایرانی سفارتی عملے اور ملٹری اٹیچیز کو اگلے 24 گھنٹے کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ اقدام خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان دہائیوں سے قائم تعلقات میں ایک بڑی دراڑ کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے بعد اب عرب دنیا میں ایران کو "شراکت دار” کے بجائے ایک براہِ راست "فوجی خطرہ” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر اس مشترکہ گیس فیلڈ پر حملہ کیا تھا تاکہ عرب ممالک کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلا جا سکے اور بظاہر اسرائیل کی یہ حکمت عملی کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے کیونکہ اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی ایران کو بھرپور فوجی جواب دینے کی کھلی دھمکی دے دی ہے، جس سے خطہ تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔
قطر کی گیس فیلڈ پر ہونے والے حملے کی لرزہ خیز تفصیلات اور عرب ممالک کے ہنگامی ردِ عمل کی مکمل کہانی جاننے کے لیے معظم فخر کا یہ وی لاگ اس لنک پر دیکھیں:




