ایران کے خلاف امریکہ کا گھسا پٹا اسکرپٹ—خلیج کا فیصلہ کن ویٹو

معظم فخر
ایران میں احتجاج کوئی نئی بات نہیں،مگر اس بار معاملہ صرف روٹی یا مہنگائی تک محدود نہیں رہا۔جب نعرے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ جائیں،تو معاملہ داخلی اصلاحات سے نکل کر ریاست کے وجود پر سوال بن جاتا ہے۔یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بیرونی طاقتیں“مدد” کے نام پر اپنی پرانی فائلیں کھولتی ہیں۔
ایران آج اسی مقام پر کھڑا ہے۔دھویں کے بادل تہران پر ہیں،مگر آنکھیں واشنگٹن اور تل ابیب کی جل رہی ہیں۔’’عراق، لیبیا، شام’’ ہر جگہ ایک ہی نسخہ آزمایا گیا۔
پہلے نظام کو “شیطان” بناؤ،پھر بمباری کو “اخلاقیات” کہو،اور آخر میں ملبے پر “آزادی” کا بورڈ لگا دو۔ایران کے معاملے میں بھی اسکرپٹ وہی ہے،فرق صرف یہ ہے کہ ایران ابھی زندہ ہے۔یہ کہنا کہ“یہ نظام خراب ہے، اس لیے گرنا چاہیے”آسان ہے۔مگر یہ سوال کوئی نہیں پوچھتا۔اس کے بعد کیا؟لیبیا جیسی آزادی؟عراق جیسا امن؟یا شام جیسا مستقبل؟یا پھر ایک ایسا ایران!جو اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہو،اور پورے خطے کو اپنے ہی خلاف صف بند کرنے پر مجبور کر دے؟
یہ وہ مقام ہے جہاں کہانی بدلتی ہے۔اس بار خطے کے اہم ممالک محض تماشائی نہیں بنے۔سعودی عرب، قطر اور عمان جو برسوں سے واشنگٹن کے قریبی شراکت دار سمجھے جاتے ہیں۔انہوں نے واضح اور دوٹوک پیغام دیا ہے۔ایران پر امریکی حملہ ناقابلِ قبول۔ہماری فضائی حدود اور اڈے استعمال نہ کیے جائیں۔خلیج کسی نئی جنگ کا ایندھن نہیں بنے گی۔یہ صرف بیانات نہیں تھے،عملی اقدامات بھی سامنے آئے۔قطر میں العدید ایئربیس سےامریکی اہلکاروں اور خاندانوں کی منتقلی،خلیجی ممالک کی جانب سےامریکی فوجی سرگرمیوں پر سخت نگرانی،اور سفارتی چینلز کے ذریعے واشنگٹن کو صاف پیغام۔
ایران پر حملہ پورے خطے کو آگ میں دھکیل دے گا۔یہ سب اس بات کا اعتراف ہے کہ اگر تصادم ہواتو وہ قابو میں نہیں رہے گا۔یہ اقدامات جذباتی نہیں،یہ اسٹریٹجک فیصلے ہیں۔خلیجی ریاستیں اپنے تمام تحفظات کے باوجود اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ موجودہ ایرانی ریاستی ڈھانچہ اپنی تمام خامیوں کے باوجودبیرونی سرپرستی میں آنے والےکسی بھی پہلوی نظام یا مسلط کردہ سیٹ اپ سےکم خطرناک ہے۔
یہ حمایت نہیں،یہ سلامتی کا حساب ہے۔ایک ایسا حساب جو جانتا ہے کہ واشنگٹن کی دوستی اور تل ابیب کی ضمانت ہمیشہ قبرستانوں پر ختم ہوتی ہے۔

