آبنائے ہرمز میں پراسرار ہلچل: امریکی ریڈارز پر ‘بھوت جہازوں’ کا ظہور

​واشنگٹن / تہران(جانوڈاٹ پی کے)عالمی سطح پر انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ایک نئی اور پراسرار صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس نے امریکی بحریہ کے ماہرین کو شدید الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی بحریہ کے ریڈارز پر اچانک سیکڑوں بحری جہازوں کے جھرمٹ (کلسٹرز) نمودار ہوئے ہیں، جنہیں ‘بھوت جہاز’ (Ghost Ships) قرار دیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیٹلائٹ امیجز میں آبنائے ہرمز مکمل طور پر خالی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ ریڈارز پر ان جہازوں کے الیکٹرانک سگنلز اور ان کی انتہائی تیز رفتار نقل و حرکت ظاہر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ صورتحال جی پی ایس جیمنگ (GPS Jamming) اور اے آئی ایس سپوفنگ (AIS Spoofing) جیسی جدید ٹیکنالوجی کا نتیجہ ہے، جس کے ذریعے ایران نے اپنی سمندری حدود کو غیر مرئی بنا دیا ہے۔

​مزید برآں، ایران نے آبنائے ہرمز میں بغیر پائلٹ کے زیرِ آب ڈرونز (UUVs) کی بڑی تعداد تعینات کر دی ہے، جو کسی بھی روایتی جنگی جہاز کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ ایران کی اس حکمتِ عملی نے سمندری تجارت کو 95 فیصد تک محدود کر دیا ہے، جبکہ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنا اب کسی بھی جارح قوت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران نہ صرف سمندری راستوں بلکہ زیرِ سمندر موجود انٹرنیٹ کیبلز کو کاٹ کر عالمی مواصلاتی نظام کو بھی مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صورتحال میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے کا اعلان ایک نئی جنگی کشیدگی کو جنم دے سکتا ہے۔

​مزید تفصیلات کے لیے معظم فخر کا ویڈیو وی لاگ ملاحظہ کریں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button